Al-Risala · March 2012 · page

صبحِ کشمیر

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

صبحِ کشمیر

1917 میں روس میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد اس کمیونسٹ حکومت نے مسلسل یہ کوشش شروع کی کہ وہ اطراف کے علاقوں میں کمیون ازم کو برآمد (export) کرے ۔ انھیں میں سے ایک نشانہ تا شقند کا ملک تھا جس کا دارالسلطنت سمر قند تھا۔ اُس زمانے میں ایک کمیونسٹ رائٹر نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی، جو ”صبح سمر قند“ کے نام سے شائع ہوئی: Joshua Kunitz, Dawn Over Samarkand, 1935, 350 pages, The Van Rees Press, New York یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کشمیر میں اب ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اس دور کو درست طور پر ”صبح کشمیر“ (Dawn Over Kashmir) کہا جا سکتا ہے۔ کشمیر میں یہ دور کسی خارجی سبب سے نہیں، بلکہ خود اہلِ کشمیر کے اندر ابھرنے والی نئی سوچ کے زیرِ اثر وجود میں آیا ہے۔ اکتوبر 1989 میں کشمیر میں مسلح جد و جہد شروع ہوئی۔ اُس کے بعد کشمیر میں جو تباہی پیش آئی، اس کے حوالے سے وہاں ایک کتاب شائع کی گئی تھی۔ اس کتاب کا نام ”زخمی کشمیر“ (Wounded Kashmir) تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہاں ایک نئی کتاب چھاپی جائے، جس کا نام صحت مند کشمیر (Healthy Kashmir) ہو ۔ الرسالہ کا زیرِ نظر شمارہ ، گویا کہ کشمیر کے اسی نئے صحت مند دور کا ترجمان ہے۔ فطرت کا قانون اور تاریخ کا تجربہ دونوں یہ بتاتے ہیں کہ خدا کی اس دنیا میں تخریبی آغاز کی ایک حد (end) ہے، لیکن اس دنیا میں تعمیری آغاز کی کوئی حد نہیں۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد کچھ نا عاقبت اندیش لیڈروں نے خود ساختہ تصورِ جہاد کے تحت کشمیر میں تخریبی جد و جہد کا آغاز کیا تھا۔ قانونِ فطرت کے تحت اب اس تخریبی جدوجہد کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اب کشمیر میں، کشمیر کی تاریخ کا نیا سفر شروع ہو چکا ہے۔ قانونِ فطرت کے تحت لازماً یہ واقعہ پیش آنا ہے کہ یہ تعمیری سفر مسلسل جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل پر پہنچ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page