Al-Risala · March 2012 · page

Political statusquoism, Dawah activism

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

انڈین آرمی۔ یہ ایک نامساوی تصادم تھا۔ چناں چہ فطری طور پر ایسا ہوا کہ کشمیر کے لوگ بڑی تعداد میں مارے گئے۔ مسلح تصادم کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے، اُس نے کشمیر کو ہر پہلو سے شدید نقصان پہنچایا۔ تعلیم اور سیاحت اور اقتصادیات اور دوسرے سماجی ادارے نا قابل تلافی حد تک تباہ ہوگئے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر اہل کشمیر کا ضمیر جاگ اٹھا۔ اُن کے اندر بڑے پیمانے پر نظرثانی (rethinking) کا عمل جاری ہوگیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب اہل کشمیر نے مسلح ٹکراؤ کو چھوڑ دیا، اور انھوں نے پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کر لیا۔

آج صورت حال یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں قدیم طرز کی ملٹنسی (militancy) تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ اب اہل کشمیر، ون مین ٹو مشن (one man, two mission) کا کلچر اختیار کر رہے ہیں۔ ایک طرف، وہ تعلیم اور تجارت جیسے شعبوں میں اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں، اور دوسری طرف، وہ پر امن دعوت کو اپنا دینی فرض سمجھ کر دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں۔ پیغمبرانہ ماڈل حضرت یوسف ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ وہ کنعان (فلسطین) میں پیدا ہوئے، پھر مخصوص حالات کے تحت وہ مصر پہنچے۔ یہاں اُس وقت ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ حضرت یوسف کے اس قصے کو قرآن میں احسن القصص (best story) کہا گیا ہے۔ اسی طرح، حضرت محمد ایک اسماعیلی پیغمبر تھے۔ ان کا زمانہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ آپ کے زمانے میں ایک مشہور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس واقعہ کو فتح مبین (1 : 48) کہا گیا ہے۔

یہ دونوں واقعات دو پیغمبروں کے نمونے ہیں۔ ان دونوں واقعات سے مشترک طور پر معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی جدوجہد کا کامیاب فارمولا کیا ہے۔ وہ فارمولا یہ ہے ــــــ سیاسی معاملے میں ایک طرف صلح، اور دعوت کے میدان میں پر امن جدوجہد :

Political statusquoism, Dawah activism

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page