Al-Risala · April 2012 · page 13

شاتمِ رسول کی سزا

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۱۳

پیغمبر کے نام پر پیغمبرانہ روش جنوری 2012 کے دوران راجستھان میں جے پور لٹریچر فیسٹول (Jaipur Literature Festival) ہوا۔ یہ ایک انٹرنیشنل فیسٹول تھا۔ اس میں مختلف ملکوں کے آرٹسٹ اور اہل علم بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس فیسٹول میں سلمان رشدی (مقیم لندن) کو بھی بلایا گیا تھا، مگر انڈیا کی مسلم تنظیموں نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور یہ مانگ کی کہ رشدی انڈیا میں نہ آنے پائیں، کیوں کہ انھوں نے اپنی کتاب (The Satanic Verses) میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے۔ حکومتِ ہند نے سیاسی مصالح کے تحت، مسلمانوں کے اس مطالبے کو مان لیا اور سلمان رشدی کے دورہ ہند کو منسوخ کر دیا گیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ مطالبہ بہ ظاہر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کیا تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ پیغمبر اسلام کے اُسوہ (model) کی نفی تھا۔ یہ بہ ظاہر فتح، اپنے نتیجے کے اعتبار سے، صرف بدترین شکست کے ہم معنی تھی۔ اس طرح کے معاملے میں پیغمبر اسلام کا اسوہ یہ ہے کہ اس کو غیر جذباتی انداز میں دیکھا جائے، مسئلہ (problem) کو نظر انداز کرتے ہوئے موقع (opportunity) کو استعمال (avail) کیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ بلاشبہ ایک مسئلہ تھا، لیکن اسی کے ساتھ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اُنھیں بتوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں وہاں مشرک زائرین آتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا اور مشرک زائرین کے سامنے قرآن کا پیغام پیش کیا۔ جے پور لٹریچر فیسٹول کے موقع پر مسلمانوں کو یہی کام کرنا تھا۔ اس فیسٹول میں ہندوستانی اور غیر ہندوستانی لوگ بڑی تعداد میں شریک ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ فیسٹول کے ناخوش گوار پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو ایک موقع دعوت (Dawah opportunity) کے طور پر استعمال کریں۔ وہ وہاں اپنا اسٹال لگائیں اور لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ یہی اس معاملے میں پیغمبر اسلام کا نمونہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page