Al-Risala · April 2012 · page 29

لیڈروں کا دہرا کردار

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۲۹

لیڈروں کا دہرا کردار

اسامہ بن لادن کا عمومی تشخص یہ ہے کہ وہ مغرب کے سخت دشمن تھے اور جہاد کے نام پر مغرب کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے سب سے بڑے حامی تھے۔ 3 مئی 2011 کو پاکستان (ایبٹ آباد) میں وہ ہلاک ہوگئے۔ یہ ان کا کردار بحیثیت ایک لیڈر تھا۔ باپ کی حیثیت سے اُن کا کردار اِس سے بالکل مختلف تھا۔

اسامہ بن لادن کے برادر نسبتی (brother-in-law) زکریا (Zakaria al-Sadah) کا ایک انٹرویو ٹائمز آف انڈیا (نئی دہلی) میں سنڈے ٹائمس (لندن) کے حوالے سے چھپا ہے۔ اس انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ - اسامہ بن لادن نے اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں سے کہا تھا کہ تم لوگ یورپ اور امریکا جاؤ، وہاں اچھی تعلیم حاصل کرو، اور اچھی زندگی گزارو۔ تم کو تعلیم حاصل کرنا ہے، امن کے ساتھ رہنا ہے۔ تم وہ نہ کرو جو میں کر رہا ہوں یا جو میں نے کیا: He told his own children and grand children, 'Go to Europe and America and get a good education, and live a good life. You have to study, live in peace and don't do what I am doing or what I have done'. (The Times of India, New Delhi, February 14, 2012, p. 20)

یہ صرف ایک شخص کی بات نہیں، یہی اس معاملے میں موجودہ زمانے کے تمام مسلم لیڈروں کا حال ہے۔ وہ دوسروں کو مغرب سے نفرت کرنا سکھاتے ہیں، وہ قوم کے بچوں کو جہاد کے نام پر تشدد کے راستے پر ڈالتے ہیں، مگر خود اپنے بچوں کے لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ جدید تعلیم حاصل کریں اور مغربی ملکوں میں آباد ہو کر وہاں پر امن زندگی گزاریں۔ ایسے لیڈروں کو نصیحت کرنا بے کار ہے، کیوں کہ وہ خود اپنی روش کبھی نہیں بدلیں گے، البتہ جو لوگ نادانی میں اُن لیڈروں کا ساتھ دیتے ہیں، اُن کو چاہئے کہ وہ ہوش مندی کا طریقہ اختیار کریں۔ وہ ایسے لیڈروں کی جذباتی باتوں کو ہرگز نہ سنیں۔ وہ خود اپنی عقل سے کام لیں اور اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لئے پرامن تعمیر کا طریقہ اختیار کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page