کامیاب زندگی کا اصول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۳۳
کامیاب زندگی کا اصول
کامیاب زندگی کا ایک اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے عمل کے لیے کسی ایسے میدانِ کار کا انتخاب نہ کرے جس کے لیے وہ صرف جزئی طور پر اہل (competent) ہو ۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنے بارے میں یہ دریافت کرے کہ وہ کس کام کی زیادہ تر صلاحیت رکھتا ہے اور پھر وہ اُسی کام کو اپنے عمل کا میدان بنائے۔ کسی کام میں حقیقی کامیابی کے لیے کلی اہلیت درکار ہوتی ہے۔ جزئی اہلیت کے ذریعے کوئی شخص کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔
یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے ، مگر عجیب بات ہے کہ بہت کم ایسے افراد ہیں جو اس اصول کے مطابق ، اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ بیش تر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ محض شوق کے تحت ایک ایسے میدان میں داخل ہوجاتے ہیں جس کے لیے وہ پوری طرح اہل نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ بیش تر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے عمل کا آغاز حوصلہ مندی کے ساتھ کرتے ہیں ، مگر آخر کار وہ مایوسی کا شکار ہوتے ہیں اور پھر وہ اسی حال میں مرجاتے ہیں۔ ہر آدمی کا یہ معاملہ ہے کہ اس کے اندر فطری طور پر بعض صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کے اس پہلو کو دریافت کرے۔ وہ صرف اُس کام میں اپنے آپ کو لگائے جس کے لیے وہ اپنی صلاحیت اور اپنے حالات کے اعتبار سے زیادہ اہلیت (competence) رکھتا ہو۔
کسی بھی عورت یا مرد کو یہ غلطی نہیں کرنی چاہئے کہ وہ ایسے میدان میں کود پڑے جس میں وہ بہتر کارکردگی کا ثبوت نہ دے سکتا ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کے اندر تعلیمی کام کی صلاحیت ہے تو اس کو سیاست کے میدان میں نہیں کودنا چاہئے۔ اگر ایک شخص کے اندر علمی کام کی صلاحیت ہے تو اس کو بزنس نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ایک شخص کے اندر روایتی کام کی صلاحیت ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ غیر روایتی کام کو اپنا میدانِ کار نہ بنائے ، وغیرہ۔ اسی کا نام منصوبہ بندی (planning) ہے ، اور منصوبہ بہ بندی کے بغیر اس دنیا میں کوئی اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues