Al-Risala · June 2012 · page

مسئلے کا حل

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

کوئی بھی دوسری تدبیر اس معاملے میں اہل ایمان کے لیے ہرگز کارگر نہیں ہو سکتی: Dawah work guarantees divine protection of Muslim Ummah. حدیث رسول کے مطابق، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو عالمی ادخال کلمہ کی ذمے داری ادا کرنا تھا، یعنی گلوبل دعوہ ورک۔ اس گلوبل دعوہ ورک کے لیے ایک گلوبل انفرا سٹرکچر درکار تھا۔ مسلمان خود اس گلوبل انفرا سٹرکچر کو وجود میں نہ لا سکے۔ اس کے بعد خدا نے سیکولر قوموں سے یہ کام لیا کہ وہ ایک گلوبل انفرا سٹرکچر ڈیولپ کریں۔ سیکولر قوموں کے اس رول کی پیشین گوئی خود حدیث رسول میں کر دی گئی تھی۔ چناں چہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستقبل میں سیکولر لوگوں کے ذریعے اپنے دین کی تائید کا انتظام کرے گا (إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر)۔

مسلمانوں کی ناکامی کے بعد سیکولر قوموں کے ذریعے اس گلوبل انفرا سٹرکچر کا وجود میں آنا، اسی حدیث رسول کے مطابق تھا۔ مسلمانوں پر فرض تھا کہ وہ اس راز کو سمجھیں اور ماڈرن انفرا سٹرکچر کو گلوبل دعوہ ورک کے لیے استعمال کریں۔ لیکن بعض اسباب سے مسلمان اس راز کو نہ سمجھ سکے اور خود ساختہ ایشوز لے کر لوگوں سے رقابت (rivalry) قائم کر لی، حتیٰ کہ وہ اُن کے خلاف تشدد کرنے لگے۔ مسلمانوں کی یہ روش خدا کی اسکیم کے خلاف تھی۔ اب مسلمانوں کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں، وہ از سرِ نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ وہ دوسری قوموں کو اپنا عدو سمجھیں، نہ کہ اپنا حریف (rival)۔ وہ جدید تہذیب کے ذریعے حاصل ہونے والے گلوبل انفرا سٹرکچر کو لے کر عالمی سطح پر پر امن دعوہ ورک کو انجام دیں۔ مسلمانوں کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں جو مسلمانوں کو موجودہ مسائل سے نجات دلانے والا ہو۔ مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کو اپنے لیے سکینڈری بنائیں ۔ وہ دعوت کو اپنی زندگی کا واحد مشن قرار دیں۔ اس کے بعد ہی ان کو دوبارہ خدا کی حفاظت ملے گی ۔ اسی میں اُن کے لیے دنیا کی حفاظت ہے اور اسی میں ان کے لیے آخرت کی نجات مقدر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page