ایک سبق آموز واقعہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
ایک سبق آموز واقعہ
حکیم اجمل خاں (وفات: 1927) نے دہلی میں ’’ہندوستانی دواخانہ‘‘ قائم کیا تھا۔ اس دواخانے میں ایک صاحب معمولی ملازم تھے۔ ان کی تنخواہ پندرہ روپے ماہانہ تھی۔ اُن کا نام حافظ عبد المجید تھا۔ انھوں نے بعد کو ہندوستانی دواخانہ چھوڑ دیا اور دواؤں کی ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ اس دکان کا نام ’’ہمدرد دواخانہ‘‘ تھا۔ ان کا انتقال 1922 میں ہوا جب کہ ان کی عمر صرف 40 سال تھی۔ حافظ عبد المجید صاحب کے دو بیٹے تھے۔ یہ وہی دو بیٹے ہیں جو بعد کو حکیم عبد الحمید (وفات: 1999) اور حکیم محمد سعید (1998) کے نام سے مشہور ہوئے۔ دونوں نے بعد کو غیر معمولی ترقی کی۔ دونوں نے ہمدرد ایمپائراور ہمدرد یونیورسٹی قائم کی۔ حکیم عبدالحمید نے دہلی میں اور حکیم محمد سعید نے کراچی (پاکستان) میں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ترقی کے لیے اصل چیز جو درکار ہے، وہ محنت ہے۔ عام طور پر لوگ ایسے آدمی کو خوش قسمت سمجھتے ہیں جو خوش حال گھرانے میں پیدا ہوا ہو، لیکن ایسے خوش قسمت لوگ کبھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیتے۔ بڑا کارنامہ ہمیشہ اُن لوگوں نے انجام دیا ہے جو معمولی حالات میں پیدا ہوئے، جن کو پیدا ہوتے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آسان حالات آدمی کی قوتِ عمل کو گھٹاتے ہیں اور مشکل حالات آدمی کی قوتِ عمل کو بڑھاتے ہیں— زیادہ خوش قسمت انسان وہ ہے جو مشکل حالات میں پیدا ہو، نہ کہ آسان حالات میں۔
مشکل حالات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اُس سے آدمی کے اندر عمل کا محرک (incentive) پیدا ہوتا ہے۔ اُس کے اندر یہ زبردست خواہش جاگتی ہے کہ میں اپنے حالات کو بدلوں، میں اپنے دُنیاہی کو ’ہے‘ بناؤں‘، میں ایسا عمل کروں جس کے ذریعے یہ ہو کہ میرا مستقبل میرے حال سے بہتر ہو سکے۔ زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت محرکِ عمل کی ہے، اور محرکِ عمل ہمیشہ مشکل حالات میں پیدا ہوتا ہے، نہ کہ آسان حالات میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues