Al-Risala · July 2012 · page

تخلیق آدم

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

ظلم وفساد کے جنگل میں ربانی پھول کے مانند ہوں گے۔ اللہ کی نظر انھیں ربانی پھولوں پر تھی۔ اللہ کو بے کرنا تھا کہ وہ فرشتوں کے ذریعے پوری انسانی تاریخ کا ریکارڈ تیار کرے، پھر ان ربانی افراد کو منتخب کر کے انھیں انسانوں کی عمومی بھیڑ سے الگ کیا جائے اور پھر ان کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے۔ جنت سادہ معنوں میں کوئی عیش کدہ نہیں ۔ جنت وہ اعلی مقام ہے جہاں تاریخ انسانی کے منتخب افراد کا معاشرہ بنایا جائے۔ وہاں اُن کو ہر قسم کا بہترین انفراسٹرکچر (infrastructure) حاصل ہو۔ تاریخ انسانی کے یہ منتخب افراد یہاں فرشتوں کے تعاون سے ایک برتر تہذیب (super civilization) وجود میں لائیں۔ موجودہ دنیا میں جو تہذیب بنی ، وہ قوانین فطرت (laws of nature) کی جزئی دریافت سے بنائی گئی۔ آخرت میں جو مافوق تہذیب بنے گی ، وہ کلمات اللہ کی کلی انفولڈنگ کے ذریعے تشکیل پائے گی۔

اس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی دوسری آیتوں سے ہوتی ہے۔ اس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے: ولو أن ما في الأرض من شجرة أقلام والبحر يمده من بعده سبعة ابحر، مانفدت كلمات الله، إن الله عزيز حكيم (31: 27) یعنی اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں ، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ یہ شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔

قرآن کی یہ آیت بظاہر خبر کے اسلوب میں ہے، مگر حقیقت میں وہ انشا ہے، یعنی اس میں کلمات اللہ کے بارے میں صرف ایک موجود امكان کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ اُس میں مخصوص قرآنی اسلوب کے تحت یہ بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان لامحدود کلمات اللہ کی انفولڈنگ کی جائے۔ یہ کام جنت کے ابدی ماحول میں انجام پائے گا۔ وہاں پوری تاریخ بشری کے منتخب افراد اکٹھا ہوں گے اور وہ اعلیٰ ترین مواقع کے درمیان کلمات اللہ کی انفولڈنگ کا کام انجام دیں گے۔ یہ ایک لامحدود کام ہوگا جو ابد تک جاری رہے گا۔ اس عمل کو قرآن میں شغل فاکہ (55: 35) یعنی پُرمسرت سرگرمی (joyful activity) کا نام دیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page