Al-Risala · August 2012 · page 2

روزے کا مقصد

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲، صفحہ ۲

روزے کا مقصد

روزے کا مقصد احساس شکر کو پیدا کرنا رہے۔ غذا آدمی کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ غذا شکر کا بہت بڑا آئٹم ہے۔ روزے میں آدمی کو غذا سے وقتی طور پر روک کر شکر کی نفسیات کو جگایا جاتا ہے، تاکہ اس تجربے کی بنا پر آدمی دوسری نعمتوں کے بارے میں بھی شکر کرنے والا بنے۔ ایک مہینے کا روزہ آدمی کے اوپر اس لیے فرض کیا گیا ہے، تاکہ وہ سال کے بقیہ دنوں میں بھی خدا کا شاکر بنا رہے۔ انسان کے اندر یہ کمزوری ہے کہ اس کی نفسیات میں کسی کیفیت کا تسلسل باقی نہیں رہتا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ شکر خداوندی کی کیفیات میں زندگی گزارے۔ اس لیے ہر سال کے ایک مہینے میں روزے کے ذریعے شکر کی کیفیت کو ری ایکٹیویٹ (re-activate) کیا جاتا ہے، تاکہ آدمی کبھی شکر کی کیفیت سے خالی نہ ہونے پائے، وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ہر تجربے کے بعد شکر کا رسپانس (response) دیتا ہے۔

دین کا خلاصہ اللہ سے تعلق ہے۔ اللہ سے تعلق قائم ہونے کے بعد انسان کے اندر اپنے منعم حقیقی کے لیے اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اسی اعتراف کا شرعی نام شکر ہے۔ جہاں شکر نہ ہو، یقینی طور پر وہاں دین بھی نہ ہوگا۔

روزہ اصلاً ایک انفرادی عبادت ہے، لیکن اس کو ایک مخصوص مہینے میں مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد انفرادی عمل میں اجتماعی پہلو کو شامل کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ روزے کے مہینے میں ایک اجتماعی فضا پیدا ہو۔ ہر جگہ کے لوگ یکساں طور پر ایک ہی عبادت میں مشغول ہوں اور ہر جگہ کے لوگ ایک ہی عبادت کا چرچا کریں، ہر جگہ کے لوگ اپنے تجربات میں دوسروں کو شریک کریں۔ روزہ اگر حقیقی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے تو اس کا انعام اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں، اس میں دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ اضافہ اس اعتبار سے ہوتا ہے کہ کس صائم کا روزہ کیفیت کے اعتبار سے کتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے عبادت کا اصول یہ ہے کہ جتنی زیادہ کیفیت، اتنا زیادہ اجر۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page