انسان اور نظام ربوبیت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
اب یہ دریافت ہوئی ہے کہ خون میں اس کے سوا، ایک اور خورد بینی ذرہ ہوتا ہے۔ اس کو پلیٹ لیٹس (platelets) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تیسرا ذرہ انسان کی زندگی اور صحت کے لیے بے حد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خون ہر اعتبار سے، اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت کا احساس آدمی کے اندر شکر وحمد کے چشمے جاری کردیتا ہے۔
اس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کے اوپر انسان کی زندگی قائم ہے۔ یہ نظام براہ راست خدا کی قدرت کے تحت قائم ہے اور اسی کو قرآن میں ربوبیت کہا گیا ہے۔ یہ نظام ربوبیت تمام تر اللہ کی جانب سے قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ربوبیت کے اس نظام سے واقفیت حاصل کرے اور پورے معنوں میں اللہ کا شاکر بندہ بن کر اس دنیا میں رہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رب صرف اللہ ہے اور اُسی کی ربوبیت اس دنیا میں قائم ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ حکم صرف اللہ کا ہے اور تمام چیزیں اُسی کے زیر حکم ہیں۔ یہ دونوں الفاظ (رب اور حکم) اللہ کی ذات کی نسبت سے قرآن میں آئے ہیں، اس کا کچھ بھی تعلق سیاسیات یا معاشیات سے نہیں ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ انھوں نے مذکورہ الفاظ قرآن سے لئے اور اس کے اندر اپنے خود ساختہ مفہوم کو شامل کر دیا۔ یہ گویا کہ رب اور حکم کے لفظ کو سیاسی بنانا (politicisation) تھا۔ قرآنی الفاظ میں اس قسم کا خود ساختہ مفہوم شامل کر کے انھوں نے یہ اعلان کیا کہ مسلمان کا یہ مشن ہے کہ وہ دنیا میں نظام ربوبیت یا نظام حاکمیت قائم کرے۔ یہ بلاشبہ ایک غیر علمی بات ہے۔ اس کی غلطی اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ بداہتہ ہی قابلِ رد ہے۔ پٹنہ (بہار) میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:
A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)
Mahatwana, Phulwarisharif Patna-601505, Bihar Mob. 09308477841, 09852208744
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues