قرآن کا تصور تاریخ ایک جائزہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ کو اپنا کنسرن بنایا، جو اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے اور جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے بھی۔
اس تاریخی تجربے کا تقاضا ہے کہ خالق کے منصوبہ تخلیق کی کامیابی کا معیار پورے مجموعہ انسانیت(mankind) کو قرار نہ دیا جائے، بلکہ اس کی کامیابی کا معیار افراد کو قرار دیا جائے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو خالق کا منصوبہ تخلیق آخری حد تک کامیاب نظر آئے گا۔ آدم سے قبل جنات پیدا کئے گئے تھے (27:15)۔ جنات کی بڑی اکثریت اگرچہ سرکش بن گئی، لیکن قرآن کے مطابق، اُن میں شخصی اعتبار سے اعلیٰ درجے کے صالح افراد بھی پیدا ہوئے (72:11)۔ اس طرح انبیا کے زمانے میں اگر چہ یہ ہوا کہ انبیا کے مخاطبین کی بڑی اکثریت منکر بنی رہی، لیکن انھیں کے درمیان یہ واقعہ بھی ہوا کہ شخصی اعتبار سے اعلیٰ درجے کے صالح افراد پیدا ہوتے رہے۔ اسی طرح ختم نبوت کے بعد دعاة(داعیوں) کی کوششوں کے ذریعے بھی یہ واقعہ پیش آیا کہ اگرچہ نظام یا مجموعہ انسانیت کی سطح پر کبھی کامل معنوں میں صالح انقلاب نہیں آیا، لیکن شخصی سطح پر ہر دور میں بلاشبہ ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جو عارف باللہ کا درجہ رکھتے تھے۔
اسلام کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں، قیامت سے پہلے اور قیامت کے بعد۔ قیامت سے پہلے کا دور برائے امتحان ہے اور قیامت کے بعد کا دور برائے انجام۔ یہ دونوں دور خالق کائنات کے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دونوں دور یکساں طور پر پوری طرح کامیاب دور ہوں۔ یہ خالق کے منصوبہ تخلیق کا کمتر اندازہ (underestimation) ہوگا کہ کامیابی کے اعتبار سے دونوں دوروں میں فرق کیا جائے۔ اس اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے دونوں دوروں کی بہترین تو جیہہ یہ ہے کہ پہلے دور کو انتخاب افراد کا دور (period of individual selection) قرار دیا جائے اور دوسرے دور کو اقامت سماج (establishment of society) کا دور کہا جائے، یعنی پہلے دور میں اس اعلیٰ سماج کے لئے مستحق افراد (deserving individuals) کا انتخاب اور دوسرے دور میں پوری تاریخ کے ان مشترک افراد کو یکجا کر کے ان کی بنیاد پر ایک اعلیٰ معاشرہ (high society) بنانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues