عقل کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲
درست سمجھ لیا اور وہ غیر ضروری طور پر عقل یا عقلی غور و فکر کو مذہب کا مخالف سمجھنے لگے اور وہ اس طرح کی غیر علمی باتیں کرنے لگے کہ ــ عقل کا دائرہ الگ ہے اور وحی کا دائرہ الگ ــ عقل کا دائرہ وہاں پر ختم ہو جاتا ہے، جہاں سے وحی کا آغاز ہوتا ہے، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ عقل الگ ہے اور عقل پرستی الگ۔ قرآن میں 'عقل' کا مادہ (root) تقریباً 50 بار استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں بار بار عقل کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اپنی عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے : إنا أنزلناه قرآناً عربياً لعلكم تعقلون (12:2) یعنی ہم نے اس کتاب کو عربی بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو:
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو (10:16)، وغیرہ۔ انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک صلاحیت، عقل ہے۔ مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت۔ کان کے اندر سننے کی صلاحیت، وغیرہ۔ اسی طرح انسان کو عقل دی گئی ہے جو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اُس کا غلط استعمال کرے، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کان اور آنکھ کا صحیح استعمال بھی ہے اور اس کا غلط استعمال بھی۔ عقل انسان کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ ڈیٹا (data) جمع کرکے اور پھر حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے صحیح علم تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ تاہم عقل بذات خود علم کا ذریعہ نہیں، اس لیے عقل صحیح فیصلہ تک بھی پہنچ سکتی ہے اور غلط فیصلے تک بھی۔ جو لوگ عقل کو بذات خود علم کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل عقلی مدرسہ فکر (school of thought) کے انتہا پسند (extremists) لوگ ہیں۔ ایسے انتہا پسند لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ خود مذہب اور عقیدے کے دائرے میں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues