Al-Risala · October 2012 · page

گارڈ پارٹیکل کیا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

سائنسی نقطہ نظر سے ہگز بوزان کی اہمیت بہت زیادہ تھی، اس لیے وہ ساری دنیا کے سائنس دانوں کے لیے تلاش کا موضوع بن گیا۔ آخرکار 1998 میں اس موضوع کی تحقیق کے لئے ایک خصوصی سرنگ بنائی گئی۔ اس سرنگ کو ایک یورپین ادارہ نے تیار کیا تھا۔ اس کا نام یہ ہے: European Oganization for Nuclear Research اس سرنگ کا نام یہ تھا — لارج ہیڈرون کولائڈر(Large Hadron Collider) ۔

اس پروجیکٹ میں دنیا کے ایک سو ملک شریک ہوئے اور 10 ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں نے اس میں کام کیا۔ 4 جولائی 2012 کو اس پروجیکٹ کے نتیجہ (result) کا اعلان کیا گیا۔ سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ اس تحقیق میں وہ 'نیئر ڈسکوری' تک پہنچ گئے ہیں۔ ہگز بوزان دراصل فوکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کا ایک گم شدہ partícula ہے جو اس بات کی توجیہہ کرتا ہے کہ ابتدائی انفجار کے بعد کائنات کیسے وجود میں آئی۔ فوکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کو سائنس داں کائنات کے بلڈنگ بلاک (building block) کی توجیہہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس ماڈل کے مطابق، کائنات کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔ بگ بینگ کا نظریہ سائنس دانوں کے نزدیک عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ 13 بلین سال پہلے کائنات ایک بہت بڑے کا سمک بال کی صورت میں تھی۔ کائنات کے تمام partícula اس کے اندر شدت سے باہم پیوست تھے۔ پھر اس کا سمک بال میں ایک انفجار ہوا اور اس کے تمام اجزا چاروں طرف روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے۔ روشنی کی رفتار معلوم طور پر سب سے زیادہ ہے جو ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ کا سمک بال سے جو partícula خارج ہوئے، وہ نہایت تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے تھے۔ ہر چیز جو اس کائنات میں ہے، وہ ایٹم سے بنی ہے۔ یہ تمام ایٹم الیکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ضرورت تھی کہ یہ تمام partícula باہم ملیں، لیکن بگ بینگ کے انفجار کے بعد الیکٹران اور پروٹان بھاگ رہے تھے، کیوں کہ اُن میں کمیت (mass) نہیں تھی۔ یہ ذرات باہم مل کر ایٹم کو صرف اُس وقت بنا سکتے تھے جب کہ ان کی رفتار کم ہو، اور ان کی رفتار صرف اُس وقت کم ہو سکتی تھی جب کہ ان کے اندر کمیت پیدا ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page