گارڈ پارٹیکل کیا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲
نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے اُن کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جان دار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتےـ قرآن کی اس آیت میں تخلیق کے تین مرحلوں کا ذکر ہے ـ پہلے مرحلے کو ’رتق‘ کہا گیا ہےـ رتق کا مطلب ہےمنضم الاجزاء یعنی کائنات کے تمام پارٹکل کا باہم جڑا ہوا ہونا۔ اس میں کا سمک بال کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ دوسرے مرحلے کو قرآن میں ’فتق‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فتق کا مطلب ہے: الفصل بین المتصلین ، یعنی باہم ملی ہوئی چیزوں کا ایک دوسرے سے الگ ہو جانا۔ اس میں بگ بینگ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد تیسرے مرحلے میں پانی (الماء) کے بننے کا ذکر ہے۔ یہاں پانی کا ذکر علامتی طور پر ہے، یعنی پانی اور دوسری تمام چیزیں۔ پانی ایک جو ہری مادہ (substance) ہے۔ اس طرح کے بہت سے جوہری مادے کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ پانی ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے بنتا ہے۔ یہی معاملہ دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ ہر چیز ایٹم کے ملنے سے بنی ہے اور ایٹم اُس وقت بنا جب کہ اس کے پارٹکل میں کمیت (mass) پیدا ہوئی۔ اس طرح، اس آیت میں پانی کا ذکر کر کے اس نوعیت کی دوسری تمام مادی چیزوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے، یعنی ’فتق‘ کے واقعے کے بعد تمام پارٹکل میں کمیت کا پیدا ہونا اور پھر پارٹکل کا مجتمع ہو کر تمام چیزوں کا وجود میں آنا۔ قرآن ، سائنس کی کتاب نہیں ہے، البتہ قرآن میں مظاہرِ فطرت کے بہت سے حوالے دئے گئے ہیں جو کہ سائنس کا موضوع تحقیق ہیں۔ قرآن کا مقصد صرف یہ ہے کہ فطرت میں موجود آیات (signs) کا حوالہ دے کر قرآن کی آئیڈیالوجی کو علمی طور پر ثابت کرنا۔ اس طرح قرآن میں فطرت کے بہت سے مظاہر کے متفرق حوالے (fragmentary references) دئے گئے ہیں۔ ان حوالوں کے بارے میں قدیم زمانے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ گویا کہ قرآن میں یہ حوالے مستقبل کی انسانی نسلوں کو شامل کرتے ہوئے دئے گئے تھے۔ اس طرح انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ قرآن کے ان حوالوں کا تقابل بعد کے حالات سے کر کے قرآن کی صداقت کی تصدیق حاصل کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues