Al-Risala · October 2012 · page

حیوانی بار برداری، مشینی بار برداری

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

حیوانی بار برداری، مشینی بار برداری

ترکی کی جامع سلیمانیہ ایک مشہور تاریخی مسجد ہے۔ اس کو ترکی کے مشہور عثمانی خلیفہ سلیمان اعظم نے سولھویں صدی عیسوی میں تعمیر کیا تھا۔ اس مسجد کی تعمیر میں دنیا کے مختلف مقامات کے قیمتی پتھر استعمال کئے گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پتھر دور کے مقام سے بیل گاڑیوں پر رکھ کر یہاں لائے جاتے تھے۔ بعض مرتبہ زیادہ وزنی پتھروں کو منتقل کرنے کے لیے بیلوں کی دس جوڑیوں پر مشتمل بیل گاڑیاں استعمال کی جاتی تھیں۔

یہ حیوانی بار برداری کے زمانے کا واقعہ ہے۔ اب ہم ایک نئے دور میں ہیں۔ اس نئے دور کو مشینی بار برداری کا دور کہا جا سکتا ہے۔ دور کی اس تبدیلی نے انسان کے لیے غیر معمولی سہولتیں پیدا کر دی ہیں۔ ان نئی سہولتوں کا مزید پہلو یہ ہے کہ قدیم زمانے میں دس جوڑیوں کے بیل سے چلنے والی گاڑی کا استعمال صرف کسی بادشاہ کے لئے ممکن ہوتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں مشینی بار برداری سے فائدہ اٹھانا ہر عورت اور مرد کے لیے ممکن ہو گیا ہے۔

موجودہ زمانے میں انسان کے لیے غیر معمولی نوعیت کی جو عمومی سہولتیں پیدا ہوئی ہیں، مذکورہ واقعہ اس نوعیت کی صرف ایک چھوٹی مثال ہے۔ موجودہ زمانہ گویا سہولتوں کے انفجار (explosion) کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مختلف نوعیت کی بے شمار سہولتیں وجود میں آئی ہیں۔ ہر آدمی ان سہولتوں کو دیکھتا ہے اور ان کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ سہولتیں ہر آدمی کے لیے پوری طرح ایک معلوم واقعہ ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگوں کی زبان پر نہ اُن انسانوں کا اعتراف ہے جنھوں نے غیر معمولی محنت کے بعد ان سہولتوں کو واقعہ بنایا اور نہ لوگوں کی زبان پر اُس خالق کا اعتراف دکھائی دیتا ہے جس نے موجودہ دنیا میں یہ امکانات رکھے تھے، تاکہ کچھ انسان اٹھیں اور ان امکانات کو واقعہ بنا دیں۔ جو شخص انسانوں کا شکر گزار نہیں، وہ خدا کا شکر گزار بھی نہیں ہو سکتا (من لم يشكر الناس، لم يشكر الله)۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page