حق کو باطل ثابت کرنا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲
حق کو باطل ثابت کرنا
قرآن کی سورہ الکہف کی ایک آیت یہ ہے: وما نرسل المرسلين إلا مبشرين ومنذرين، ويجادل الذين كفروا بالباطل ليدحضوا به الحق، واتخذوا آياتي وما أنذروا هزوا (18:56) یعنی رسولوں کو ہم صرف خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں۔ اور منکر لوگ بے بنیاد باتوں کو لے کر جھگڑا کرتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے وہ حق کو باطل ثابت کردیں ۔ اور انھوں نے میری نشانیوں کو اور جن چیزوں سے ان کو ڈرایا گیا، اُس کو مذاق بنا دیا ۔
اس آیت میں ’دحض‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دحض کا لفظی مطلب ابطال (refutation) ہے، یعنی حق کو باطل قرار دینا۔ حق کے مقابلے میں یہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں رائج رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جارحانہ دحض کا طریقہ رائج تھا، اور اب غیر جارحانہ دحض کا طریقہ پایا جاتا ہے۔
اس معاملے کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ امریکا کے ایک کمپیوٹر اسپیشلسٹ مسٹر ڈیؤڈ (David Coppedge) جوناسا(NASA) میں ایک بڑی پوسٹ پر تھے، اُن کو سروس سے نکال دیا گیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ تخلیق کے بارے میں انٹیلی جنٹ ڈیزائن (intelligent design) کے تصور کو مانتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تخلیق میں ضرور ایک بالاتر طاقت کا ہاتھ ہے، کیوں کہ زندگی اتنی زیادہ پیچیدہ ہے کہ وہ تنہا ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں نہیں آسکتی۔ ایک امریکی اسکالر جان ویسٹ (John West) نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیؤڈ کا ریمارک ڈارون کے نظریہ ارتقا کو مشتبہ ثابت کرتا ہے، جب کہ ماڈرن طبقے کا یہ حال ہے کہ اس نے ایسے کسی بھی شخص کے خلاف عملاً ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے جو ڈارون سے اختلاف کرے:
There is basically a war on anyone who dissents from Darwin.
‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues