Al-Risala · October 2012 · page

بھولاہواسبق

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

کامیابی کا راز

7 مئی 2012 کا واقعہ ہے۔ میں ایک بیرونی سفر سے واپس آیا۔ دہلی ائرپورٹ پر ایک نوجوان نے مجھ کو وہیل چیئر پر بٹھا کر باہر پہنچایا۔ جب ہم لوگ ائرپورٹ کے باہر گیٹ پر پہنچے تو میرے ایک ساتھی نے اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا اور اُس نوجوان کو دینے لگے۔ نوجوان نے نوٹ لینے سے انکار کیا۔ اس نے کہا کہ مجھ کو تو آپ کا آشیرواد چاہئے۔ میرا امتحان (exam) ہونے والا ہے، میں اس میں پاس ہو جاؤں۔ میں نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کے لئے دعا کی۔ وہ خوش ہو کر واپس چلا گیا۔ اس چھوٹے سے واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی دوسرے کا دیا ہوا مال، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، کسی کو کامیاب نہیں بناتا۔ کامیابی کا راز خود اپنی محنت ہے۔ یہی بات ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: ما أكل أحد طعاماً قط خيرأ من أن يأكل من عمل يده (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1941) یعنی کسی آدمی نے کبھی اس سے اچھا کھانا نہیں کھایا کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے۔

عطیہ کے طور پر ملا ہوا مال آدمی کی ایک ضرورت کو پورا کر سکتا ہے، لیکن اس طرح کا مال آدمی کی شخصیت کے ارتقا کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ ایسا مال آدمی کے لیے ایزی منی (easy money) کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایزی منی کسی کے لیے ترقی کا ذریعہ نہیں بنی۔

اپنی محنت سے کمایا ہوا مال آدمی کے اندر اعلی اخلاقی صفات پیدا کرتا ہے۔ مثلاً خود اعتمادی، عملی تجربہ، ذہنی ارتقا، ہارڈ ورک (hardwork) اور سنجیدگی، وغیرہ۔ مزید یہ کہ آدمی جب اپنی محنت سے کھاتا ہے تو وہ مال کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کے اندر سادگی کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ وہ اسراف سے بچ جاتا ہے۔ اس کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ جس مال کو میں نے محنت کر کے کمایا ہے، اُس مال کو مجھے صرف مفید کام میں خرچ کرنا چاہئے۔ اسی طرح وہ اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر دوسروں کے دکھ درد کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page