Al-Risala · November 2012 · page

فقہی ماڈل کا نقصان

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

ایک وقتی احتیاط ہے۔ اب دورِ طباعت میں اس وقتی احتیاط کو برقرار رکھنا صرف ذہنی جمود کا ایک معاملہ ہوگا، نہ کہ حقیقۃً احتیاط کا معاملہ۔ دورِ طباعت میں قرآن کی حفاظت اتنے مستحکم انداز میں ہو چکی ہے کہ اب قدیم انداز کی کوئی احتیاط سرتا سر بے معنی ہے۔

مزید یہ کہ اس قسم کے مفتی صاحبان نے اپنے جامد ذہن کی بنا پر ایک اور فتویٰ دے رکھا ہے۔ یہ فتویٰ ’بے حرمتی‘ کے خود ساختہ تصور پر مبنی ہے۔ اس دوسرے فتوے کے مطابق، قرآن کے ترجمے کو اگر متن کے ساتھ شائع کیا جائے تو غیر مسلموں کے ہاتھ میں اس کو دینا جائز نہ ہوگا، کیوں کہ وہ قرآن کی بے حرمتی کریں گے۔ گویا کہ قرآن کے ترجمے کو اگر متن (text) کے بغیر شائع کیا جائے تو اس کا شائع کرنا نا جائز ہے۔ اور اگر قرآن کے ترجمے کو متن کے ساتھ شائع کیا جائے تو اس کو غیر مسلموں کے ہاتھ میں دینا نا جائز ہے، یعنی پہلی صورت میں طباعت نا جائز اور دوسری صورت میں استعمال نا جائز۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ذہنی جمود اپنے نتیجے کے اعتبار سے کتنا زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ اس قسم کے جامد فتووں کا یہ ہلاکت خیز نتیجہ ہوا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام عملاً معطل ہو کر رہ گیا۔ دعوت الی اللہ کے کام کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں چھپا پا جائے اور اس کو منظم طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ لیکن مذکورہ قسم کے بے اصل فتوؤں کی بنا پر ایسا ہوا کہ مسلمانوں کے اندر دعوت الی اللہ کا ذہن ہی نہیں بنا۔ موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس کا دور اس لیے آیا تھا کہ خدا کی کتاب کا ترجمہ ہر زبان میں چھاپ کر اس کو تمام انسانوں تک پہنچایا جائے، مگر دورِ پریس پر تین سو سال سے زیادہ کی مدت گزر گئی اور ذہنی جمود کی بنا پر اب تک یہ کام انجام نہ پا سکا۔

اس مثال کے برعکس، ترکی میں ایک دوسری مثال سامنے آئی۔ یہاں ترکی کے شہر استنبول میں ایک تاریخی مسجد (رستم پاشا مسجد) ہے۔ یہ بڑی مسجد ہے اور یہاں کثرت سے سیاح آتے ہیں۔ یہاں کے ترکی امام کو ہمارے ساتھیوں نے قرآن کے انگریزی ترجمہ (بغیر متن) کی کاپیاں دیں۔ امام صاحب نے اس کو خوشی کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑی تعداد میں قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page