اخوان رسول
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
3- قدیم زمانے میں دعوت کا کام سیاسی انفراسٹرکچر (political infrastructure) کی بنیاد پر ہوا تھا، موجودہ زمانے میں نئی تبدیلیوں کی بنا پر دعوتی کام کے لیے سوشل انفراسٹرکچر (social infrastructure) درکار ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم دنیا میں اس وقت صرف ترکی وہ ملک ہے جہاں یہ مطلوب سوشل انفراسٹرکچر پایا جاتا ہے۔ میں نے اپنے سفر کے دوران اس کو سوشیو ایجوکیشنل انفراسٹرکچر (socio-educational infrastructure) کا نام دیا تھا۔ ترکی میں یہ سوشل انفراسٹرکچر جن لوگوں کی کوشش سے قائم ہوا ہے، اُن میں استاد فتح اللہ گولن اور ان کے پیرو ایک امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔
4- ترکی کے اس جدید ڈویلپ منٹ میں مصطفیٰ کمال اتاترک کا تائیدی رول ہے۔ کمال اتاترک فطری طور پر ایک جرأت مند اور با عزم آدمی تھے۔ یہ کمال اتاترک ہی تھے جو ترکی میں ریڈیکل ریفارم (radical reform) لے آئے۔ مثلاً رومن رسم الخط کو ترکی کی زبان کا رسم الخط بنانا، مغربی طرز تعلیم کو ترکی میں رائج کرنا، وغیرہ۔
کمال اتاترک جو تبدیلیاں لائے، اُن کو مخالفِ مذہب (anti-religion) کہنا درست نہ ہوگا۔ زیادہ صحیح طور پر اتاترک کا مشن مخالفِ جمود (anti-stagnation) مشن تھا۔ ترکی کے سفر میں وہاں کی مشہور نیوز ایجنسی (Anadolia Ajansi) کے نمائندہ کو انٹرویو دیتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ جدید ترکی کا کیس اسلام کو سیکولر بنانا نہیں تھا، بلکہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ سیکولرزم کو اسلامی بنانا تھا:
The case of modern Turkey was not one of secularization of Islam, but in terms of result, it was Islamization of secularism. ترکی میں کمال اتاترک کی ریڈیکل کارروائیوں کے نتیجے میں بہت سی مثبت چیزیں پیدا ہوئیں۔ مثلاً طویل جمود کا ٹوٹنا، لوگوں میں اوپن نیس (openness) کا آنا، جدید تعلیم کا فروغ، مغربی کلچر سے ڈائنا مزم (dynamism) کا آنا، مثبت سیکولر قدروں (positive secular values) کو فروغ،
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues