ایمان سے جنت تک
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
ایمان سے جنت تک
قرآن کی سورہ النحل میں ارشاد ہوا ہے: من عمل صالحاً من ذكر أو أنثى وهو مؤمن فلنحيينه حياة طيبة، ولنجزينهم أجرهم بأحسن ما كانوا يعملون (16:97) یعنی جو شخص کوئی عمل صالح کرے ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو زندگی دیں گے، ایک اچھی زندگی۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے، اُس کا ہم اُن کو بہترین بدلہ دیں گے۔ قرآن کی اس آیت کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہو، وہ غور وفکر کے ذریعے ایمان باللہ تک پہنچے اور پھر اس کے مطابق، وہ عمل صالح کا طریقہ اختیار کرے، ایسا شخص گویا اللہ کی رحمت کے سائے میں آگیا، وہ اللہ کے مطلوب بندوں میں شامل ہو گیا۔
دوسری بات ہے ایسے شخص کو حیات طیبہ کا ملنا۔ اس حیات طیبہ کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دے، تو اُس کے بعد وہ اللہ کی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے، اْس پر فرشتے اُترتے ہیں، زندگی کے ہر موڑ پر اس کو وہ مدد ملتی رہتی ہے جس سے اس کے اندر ثابت قدمی پیدا ہو، وہ صحیح اور غلط میں فرق کرتے ہوئے اپنے لیے صحیح کا انتخاب کرے، اللہ کی توفیق سے اس کے اندر وہ شعور پیدا ہو جاتا ہے جو اس کو ہر انحراف (deviation) سے بچائے، اس طرح وہ اپنے اندر اُس شخصیت (personality) کی تعمیر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو اس کو اللہ کے مطلوب بندوں کی فہرست میں شامل کر دے۔
آیت کے آخری حصے میں، اجر ملنے سے مراد، آخرت کا اجر ہے۔ ایسے افراد آخرت کی ابدی زندگی میں جنت میں داخلے کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
ان کے اوپر اللہ کا مزید احسان یہ ہو گا کہ آخرت میں ان کو جو بدلہ دیا جائے گا، وہ اُن کے اعمال کے بہتر حصہ (احسن عمل) کی نسبت سے دیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues