دورِ جدید موافق اسلام دور
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
دورِ جدید موافق اسلام دور
آج اسلام شدید خطرے میں ہے، وہ عصری طوفانوں کی زد میں ہے— یہ بات موجودہ زمانے میں تقریباً مسلمان مختلف انداز میں دہرا رہے ہیں، مگر یہ بات جتنی زاوردہ دہرائی جاتی ہے، اتنی ہی زاوردہ وہ بے اصل ہے۔ جو لوگ یہ باتیں کہتے ہیں، ان کے بارے میں یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ نہ اسلام کو سمجھتے ہیں اور نہ عصری تقاضوں کو۔ اس جملے میں پہلی غلطی یہ ہے کہ اس میں اسلام اور مسلم قوم دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں اگر بالفرض کوئی خطرہ ہے تو وہ صرف مسلم قوم کے لیے ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں، کیوں کہ اسلام ایک دین محفوظ ہے، اللہ نے خود اس کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے، اور جس دین کا محافظ خود اللہ تعالیٰ ہو، اس کے لیے خطرے کا کوئی سوال نہیں۔ اس واقعے کا ایک عملی ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، اتنی زیادہ سرگرمی اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھیں۔ یہی معاملہ دورِ جدید کا ہے۔ دورِ جدید اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک موافق اسلام دور ہے، نہ کہ مخالفِ اسلام دور۔ دورِ جدید کو مخالفِ اسلام دور بتانا، صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دورِ جدید کی الف ب بھی نہیں جانتا۔ ایسا آدمی دراصل مسلم قومی ذہن کے تحت سوچ رہا ہے اور غلط فہمی کی بنا پر اس کو وہ اسلام کے اوپر منطبق کر رہا ہے۔
دورِ جدید کیا ہے، دورِ جدید عقلی طرزِ فکر (rational thinking) کا نام ہے، اور عقلی طرزِ فکر مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید مذہبی آزادی کا دور ہے، اور مذہبی آزادی مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید کمیونیکیشن کا دور ہے، اور کمیونیکیشن مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اور پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے، وغیرہ۔ ایسی حالت میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ دورِ جدید کے موافق اسلام پہلوؤں کو دریافت کرکے اس کو اسلام کے حق میں استعمال کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues