اللہ کے ساتھ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
اللہ کے ساتھ
عربی زبان میں بہت سے مضامین اور کتابیں چھپی ہیں جن کا ٹائٹل اس قسم کا ہوتا ہے— ایک ساعت فلاں کے ساتھ (ساعۃ مع فلان)۔ اس طرح کا ٹائٹل بظاہر درست ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ کوئی لکھنے والا اس طرح کے ٹائٹل کے ساتھ کیوں نہیں لکھتا کہ— ایک ساعت اللہ کے ساتھ (ساعۃ مع اللہ)۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے لکھنے والوں کو انسان کی صحبت تو ملی، مگر اُن کو اللہ کی صحبت نہیں ملی۔
حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر ایسا لمحہ گزرنا چاہیے، جب کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہو (ساعۃ يناجي فيها ربّه)۔ سرگوشی (whisper) ایک ایسے تجربے کا نام ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو اپنے رب سے قریب پاتا ہے، اتنا زیادہ قریب کہ وہ سرگوشی کے انداز میں اپنے رب سے کلام کرنے لگتا ہے۔
قرآن سے ثابت ہے کہ خدا اپنے بندے سے بہت قریب ہے (286 :2)۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سجدہ کے وقت انسان خدا سے قربت کا تجربہ کرتا ہے (19: 96) یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ جب ایک انسان اپنے رب کو دریافت کرتا ہے، وہ آفاق و انفس میں گہرائی کے ساتھ غور کرتا ہے تو وہ بار بار محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ اُس وقت اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے۔ اس کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ربانی فیضان (divine inspiration) کی سطح پر خدا سے جڑ گیا ہے۔ اُس وقت آدمی کی زبان سے غیر متوقع طور پر اعلیٰ ربانی کلمات ادا ہونے لگتے ہیں، اس کا پورا وجود ایک روحانی تجربے میں غرق ہو جاتا ہے۔ وہ دیکھے بغیر خدا کو دیکھنے لگتا ہے، وہ ہم کلام ہوئے بغیر خدا سے بات کرنے لگتا ہے، بظاہر دوری کے باوجود وہ خدا سے آخری حد تک قریب ہو جاتا ہے— خدا کی قربت یہ ہے کہ کوئی شخص اس طرح اپنے رب کو پالے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues