Politics is the art of the possible.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
my friend Dr, R, M, Patil (Chairman Eng, Deptt, Amravati university)
and to my Ph, D, Supervisor Dr, Ulka Wadekar, (Akhtar Ali, Assistant Professor In Eng, Umravati)
محترم مولانا وحید الدین خاں، آپ کی مایہ ناز کتاب تجدید دین" اسم بامسمیٰ ہے۔ اس کتاب نے قرآن وحدیث کے اصل منشا کو ظاہر کیا ہے۔ کتاب عربی مدارس کے طلبا خصوصاً آخر کے طلبا کے لیے داخل نصاب چاہئے، نیز ٹریننگ کورس اور تخصص کرنے والوں کے لیے اس کو لازمی ہونا چاہئے۔ علما کو چاہئے کہ وہ اس کتاب کو اپنا گم شدہ سرمایہ سمجھ کر اس سے رہنمائی حاصل کریں۔ (شار احمد سلفی، ناگ پور، مہاراشٹر)
میں جب سے الرسالہ سے وابستہ ہوئی، میری منفی سوچ مثبت سوچ میں بدل گئی۔ اب میرا یہ حال ہے کہ میرے دل میں کسی انسان کے لیے ذرہ برابر نفرت نہیں ہے، یہاں تک کہ میں ہندوؤں اور یہودیوں سے بھی نفرت کو حرام سمجھتی ہوں، نیز برطانیہ اور امریکا والوں سے بھی نفرت کے بجائے میرے دل میں اُن کے لیے خیرخواہی کا جذبہ ہے، کیوں کہ اُن کی بے پناہ کوششوں سے آج ہمارے لیے دعوت الی اللہ کے کام میں بے حد آسانی پیدا ہوگئی ہے۔ (سائرہ لطیف، پاکستان)
پاکستان میں ماہ نامہ الرسالہ (نئی دہلی) کے بہت سے قاری (readers) ہیں۔ وہ مطبوعہ صورت میں یا انٹرنیٹ کے ذریعے ہر ماہ اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک قاری نے اطلاع دی ہے کہ وہ ملک کے مختلف مقامات کا دورہ کرکے الرسالہ کے قارئین کو منظم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک اچھا عمل ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ خود اپنے جذبے سے اور ذاتی پروگرام کے تحت ایسا کررہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کا ہر قاری اسی طرح پروگرام ساز (programme-maker) بنے۔ وہ اپنے حالات کے لحاظ سے خود پروگرام بنائے اور خود اس کی تعمیل کرے۔
اکتوبر 1976 سے ماہ نامہ الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ الرسالہ سے جڑنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میں قرآن اور سنت کے علاوہ، کسی اور مسلک سے اپنے آپ کو وابستہ نہ کرسکا۔ میں گمراہی میں جی رہا تھا۔ الرسالہ نے ایک نئے احساس میں جینے کا حوصلہ دیا۔ ہم بے شعور تھے، عقل وشعور سے دور تھے، بے صبر تھے، الرسالہ نے ہمارے اندر عقل وشعور کو بیدار کیا۔ صبر، جو بزدلی نہیں، بلکہ حکمت ہے، اُس کا درس دیا۔ ہم صرف جینے کے لیے جیتے تھے، الرسالہ نے روح اسلام کے ساتھ جینے والا بنایا۔ الرسالہ کے ذریعے ہم اسلام کی حقیقت سے آشنا ہوئے ۔ ہم نے اصل دین اور ظاہری دین کا فرق سمجھا۔ الرسالہ ہمارے لیے ذہنی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ ہم مسلمان ہونے کی وجہ سے خدا کو مانتے تھے، مگر ہم خدا سے دور تھے، الرسالہ نے ہم کو خدا سے قریب کیا۔ ہم حمد اور شکر کے حقیقی جذبات سے خالی تھے ۔ الرسالہ نے ہم کو خدا کا شکر کرنا سکھایا۔ ہم اصل کام سے دور تھے، الرسالہ نے دعوت کو ہماری زندگی کا مقصد بنا دیا۔ الرسالہ نے ہمارے اندر سے نفرت، شکایت اور مایوسی کو دور کردیا۔ الرسالہ نے ہم کو بتایا کہ ساری عظمتیں صرف اللہ کے لیے ہیں اور ہم رسول اور اصحاب رسول کے راستے پر چل کر ہی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ (حکیم شمس الآفاق، سینیر فزیشن، رام منوہر لوہیا ودین دیا ل اپادھیائے ہاسپٹل، نئی دہلی)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues