Al-Risala · January 2013 · page

کشتی نوح

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

سورہ العنکبوت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ، وجعلناها آية للعالمين (29:15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس (کشتی) کو سارے عالم کے لیے ایک نشانی بنا دیا:

Then we saved him and those who were with him in the Ark, and made it a sign for mankind. حضرت نوح کی کشتی تاریخ انبیا کی قدیم ترین یادگار ہے۔ قرآن کے مذکورہ بیان کے مطابق، اس قدیم ترین یادگار کو محفوظ رکھنا اس لیے تھا، تاکہ وہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے علم میں آئے اور اُن کے لیے دین حق کی ایک تاریخی شہادت بنے۔

مگر یہ سادہ بات نہ تھی، اس عالمی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے بہت سی شرطیں درر تھیں۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ کشتی کا استوا (11:44) ایک ایسے ملک میں ہو جو اپنے جائے وقوع کے لحاظ سے عالمی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو، کشتی نوح کے ظہور کا واقعہ ایک طے شدہ وقت پر پیش آئے، جب کشتی نوح ظاہر ہو تو عالمی کمیونیکیشن کا دور آ چکا ہو، یہ واقعہ جب ظہور میں آئے تو اس وقت گلوبل سیاحت (global tourism) کا دور بھی آ چکا ہو، پرنٹنگ پریس کا زمانہ آ چکا ہو، تاکہ خدا کی کتاب (قرآن) کے مطبوعہ نسخے لوگوں کو دینے کے لیے تیار کئے جاسکیں، دنیا کھلے پن (openness) کے دور میں پہنچ چکی ہو، اسی کے ساتھ دنیا سے کچھ چیزوں کا خاتمہ ہو چکا ہو۔ مثلاً مذہبی جبر، کٹرپن (rigidity)، علاقہ گی پسندی (separatism)، تنگ نظری (narrow-mindness)، وغیرہ۔

ترکی کے پہاڑ (ارارات) پر کشتی نوح کا موجود ہونا استثنائی طور پر ایک انوکھا واقعہ ہے۔ گلیشیر کا پگھلنا جب اس نوبت کو پہنچے، جب کہ پوری کشتی ظاہر ہو جائے اور وہاں تک پہنچنے کے راستے بھی ہموار ہو جائیں تو بلا شبہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہوگا کہ ترکی کا نقشہ سیاحت (tourist map) میں نمبر ایک جگہ حاصل کر لے گا۔ ساری دنیا کے لوگ اس قدیم ترین عجوبہ کو دیکھنے کے لیے ترکی میں ٹوٹ پڑیں گے۔ اس طرح اہل ترکی کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے ساری دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page