God is nothing other than man himself.
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
دعوہ ایکٹوزم From Political Activism to Dawah Activism مشہور محدث امام مالک بن انس (وفات: 179 ہجری) کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: لا يصلح آخر هذه الأمة، إلا بما صلح به أولها (مسند الموطأ، رقم الحديث: 783) یعنی اس امت کے دورِ آخر کے لوگوں کی اصلاح بھی اُسی طرح ہوگی، جس طرح اس امت کے دورِ اول کے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی۔
امت کے لیے یہ طریقہ اصلاح کیا ہے، اس کا اندازہ رسول اور اصحابِ رسول کے دور کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے دور کو اسلام کا دورِ اول کہا جا سکتا ہے۔ اس دور میں جو کچھ پیش آیا، اس کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 13 سال تک آپ پُرامن انداز میں اپنے مشن کو چلاتے رہے۔ اس مدت میں مکہ کے کچھ افراد نے اسلام قبول کیا، لیکن وہاں کی بڑی اکثریت آپ کی مخالف بن گئی۔ انھوں نے ہر صورت سے آپ کو ستانا شروع کر دیا، یہاں تک کہ ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ رسول اور اصحابِ رسول یا تو مکہ سے ہجرت کر جائیں یا اہل مکہ کی طرف سے جارحانہ کارروائی کا سامنا کریں۔
اُس وقت حضرت عمر فاروق اور دوسرے اصحاب نے کہا کہ اگر ہم سے جنگ کی جاتی ہے تو ہم جنگ کریں گے۔ پیغمبرِ اسلام نے حضرت عمر فاروق کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: یا عمر، إنا قليل (سیرت ابن کثیر: 1/441) یعنی اے عمر، ہم تھوڑے ہیں۔ پیغمبرِ اسلام کا یہ جواب کوئی سادہ جواب نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی فریقِ ثانی کے ساتھ ٹکراؤ کا وقت نہیں آیا۔ اللہ کے منصوبے کے مطابق، یہ ایک قبل از وقت بات ہوگی کہ ہم فریقِ ثانی سے لڑ جائیں۔ ابھی ہمیں صبر کرتے ہوئے حالات کو اُس نوبت تک پہنچانا ہے جہاں اللہ اُس کو پہنچانا چاہتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues