خدائی منصوبے کی تاریخی شہادت
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
خدائی منصوبے کی تاریخی شہادت
حضرت نوح کی کشتی ہزاروں سال تک گلیشیر کے نیچے محفوظ رہی۔ فطرت کے قانون کے مطابق، کشتی پوری کی پوری ایک فاسل (fossil) بن گئی۔ اس کے بعد ابتدائی طور پر انیسویں صدی عیسوی کا آخری زمانہ آیا، جب کہ گلوبل وارمنگ (global warming) کا دور شروع ہوا۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں یہ ہوا کہ پہاڑوں کے اوپر جمے ہوئے برف کے بڑے بڑے تودے (گلیشیر) دھیرے دھیرے پگھلنے لگے۔ آخر کار یہ ہوا کہ جمی ہوئی برف کا بڑا حصہ پگھل گیا اور وہ پانی کی صورت میں بہہ کر سمندروں میں چلا گیا۔ اس کے بعد برف کے نیچے ڈھکی ہوئی کشتی کھل کر سامنے آگئی۔ دابہ سے مراد یہی کشتی نوح ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت کے الفاظ بہت با معنی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ: أول ما یبدوا منها رأسها (التفسير المظهري 133/7) دابہ جب نکلے گا تو سب سے پہلے اس کا سر ظاہر ہوگا۔
یہ تمثیل کی صورت میں اُس واقعے کا نہایت درست بیان ہے جو کشتی نوح کے ساتھ پیش آیا۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جب برف پگھلنے لگی تو فطری طور پر کشتی کے اوپر کا حصہ کھلا اور پھر دھیرے دھیرے پوری کشتی سامنے آگئی۔
کشتی نوح پر غور کیجیے تو اس کا پورا معاملہ ایک خدائی منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔ حضرت نوح کی قوم کی ہلاکت کے لیے ایک بڑے سیلاب کا طریقہ اختیار کرنا، پھر کشتی نوح کا ایک متعین رخ پر سفر کرتے ہوئے جودی پہاڑ پر پہنچنا، پھر اس کا گلیشیر کے نیچے دب جانا، پھر فسلائزیشن کے عمل کے ذریعے اس کا مستقل طور پر محفوظ ہو جانا، پھر گلوبل وارمنگ کے ذریعے اس کا کھل کر سامنے آجانا، پھر بیسویں صدی کا دور آنا، جب کہ پرنٹنگ پریس اور جدید کمیونیکیشن اور عالمی سیاحت اور اس طرح کے دوسرے اسباب کے نتیجے میں یہ ممکن ہو گیا کہ کشتی نوح کو پیغمبروں کی تاریخ کے ایک پوائنٹ آف ریفرنس کے طور پر لیا جائے اور جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے پیغمبروں کی دعوت کو سارے عالم تک پہنچا دیا جائے۔ کشتی نوح کے بارے میں یہی وہ حقیقت ہے جس کا اشارہ قرآن کے ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues