حفاظت کا فارمولا
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
حفاظت کا فارمولا
پونٹی چڈھا اور ہر دیپ چڈھا دونوں سگے بھائی تھے ۔ اُن کا بہت بڑا بزنس تھا۔ ان کا بزنس انڈیا کی کئی ریاستوں میں پھیلا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ 6 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے مالک تھے۔ چھترپوری (نئی دہلی) میں اُن کا 13 ایکڑ رقبے میں پھیلا ہوا فارم ہاؤس ہے۔ اس فارم ہاؤس میں 17 نومبر 2012 کو دونوں بھائیوں کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کا مقصد پراپرٹی کی تقسیم تھا، مگر دونوں کے درمیان تقسیم کے معاملے میں اختلاف ہو گیا۔ یہ اختلاف اتنا زیادہ بڑھا کہ میٹنگ کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر ریوالور کے ذریعے گولیاں چلائیں، یہاں تک کہ اسی موقع پر دونوں بھائیوں کی موت ہوگئی۔
ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کے شمارہ 18 نومبر 2012 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چڈھا برادران کا ریاستی حکومتوں پر اتنا اثر تھا کہ قانونی ضوابط اس طرح بنائے جاتے تھے جو کہ اُن کے موافق ہوں :
Rules were tailor-made for Chadha Brothers. (p.2)
مگر دولت کی کثرت اور اثر ورسوخ کی طاقت اور قوانین و ضوابط کی حمایت چڈھا برادران کو ہلاکت سے نہ بچاسکی۔ دونوں بھائیوں نے خود ہی ایک دوسرے کو مار کر اپنا خاتمہ کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی قانون یا قانونی تدبیر کسی کی محافظ نہیں بن سکتی، انسان کو اپنا محافظ آپ بننا ہے۔ اصل حفاظت یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش پر کنٹرول کرے، وہ اپنے آپ کو اشتعال سے بچائے، وہ مس ایڈونچر ازم (misadventurism) کا شکار نہ ہو، وہ غصہ اور نفرت میں مبتلا نہ ہو، وہ حالات سے ٹکراؤ کے بجائے حالات سے ایڈجسٹ (adjust) کرے۔ حفاظت کا اصل فارمولا صرف ایک ہے اور وہ ہے — اپنے آپ کو اپنے آپ سے بچانا: