Al-Risala · June 2013 · page

انقلابی اسپرٹ

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

جنھوں نے رسول اللہ کو دیکھا، جنھوں نے رسول اللہ کی صحبت پائی۔ یہ سوچ کر حضرت ابو بکرکہتے کہ: أينقص الدين وأصحاب الرسول أحياء (کیا دین میں نقص پیدا کیا جائے گا، حالاں کہ اصحاب رسول زندہ ہیں)۔ اس کے بجائے حضرت ابو بکر نے کہا کہ: أينقص الدين وأنا حي۔ حضرت ابو بکر اگر پہلا جملہ کہتے تو نفسیاتی طور پر وہ ذمے داری کو پورے مجموعے پر ڈال دیتے ۔ ایسی حالت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر اُن کا ذہن یہ کہتا کہ ایک لاکھ پچاس ہزار ذمے داریوں میں سے صرف ایک ذمے داری ان کی اپنی ہے۔ اس کے برعکس، جب انھوں نے دوسرا جملہ کہا تو ان کا ذہن اس عزم سے بھر گیا کہ ساری کی ساری ذمے داری تنہا ان کی اپنی ہے، کسی کا انتظار کئے بغیر انھیں خود اپنے آپ کو اس کام میں پوری طرح جھونک دینا ہے۔

اس اسپرٹ کو ایک لفظ میں انقلابی اسپرٹ کہا جاسکتا ہے۔ تمام بڑے کام اسی انقلابی اسپرٹ کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ جہاں افراد کے اندر یہ انقلابی اسپرٹ موجود نہ ہو، وہاں باتیں تو بہت ہوں گی، لیکن ایسی صورت میں کوئی بڑا کام انجام پانے والا ہر گز نہیں۔

کسی فرد کے اندر یہ انقلابی اسپرٹ اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ بنا لے، جب اس کو یقین ہو جائے کہ یہ کوئی خارجی سوال نہیں، یہ اس کی اپنی زندگی اور موت کا سوال ہے، یہیں اس کے لیے یا تو کامیابی کا فیصلہ ہونے والا ہے یا نا کامی کا فیصلہ۔ جب کوئی فرد اس طرح ایک مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ بنالے تو اُس وقت اس کے اندر ایک انقلابی اسپرٹ پیدا ہو جاتی ہے، اور یہی انقلابی اسپرٹ کسی بڑے کام کی اصل ضامن ہے، خواہ وہ کوئی مذہبی کام ہو یا سیکولر کام۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page