Al-Risala · June 2013 · page

سچائی کی سیٹ

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

رپورٹنگ یقینی طور پر ایک جھوٹ ہے، وہ یقینی طور پر قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ قومی معاملات میں جھوٹ کی روش اختیار کرنے والے لوگ بظاہر قوم کی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایسا کرتے ہیں، مگر اپنے انجام کے اعتبار سے، بلا شبہ یہ قوم کے ساتھ دشمنی ہے، نہ کہ قوم کے ساتھ ہمدردی۔ قرآن میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (5:8) یعنی کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے:

Believers, do not let your enmity for others turn you away from justice. Deal justly; that is nearer to being God-fearing. کوئی آدمی جھوٹ پر کھڑا ہوا ہے یا وہ سچائی پر کھڑا ہوا ہے، اس کا صحیح اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی سے اس کو شکایت یا نزاع پیدا ہو جائے۔ شکایت پیدا ہوتے ہی آدمی فوراً غیر منصفانہ بولی بولنے لگتا ہے۔ اسی غیر منصفانہ کلام کو قرآن میں تطفیف (83:1) کہا گیا ہے، یعنی دوسری سائیڈ کی غلطی کو بتانا اور اپنی سائیڈ کی غلطی کو حذف کر دینا۔ یہ طرزِ کلام ایک غیر متقیانہ طرزِ کلام ہے، اور جو لوگ غیر متقیانہ روش میں مبتلا ہوں، وہ کبھی اللہ کے پڑوس میں جگہ نہیں پا سکتے۔ دوسری قوم کو ظالم بتانا اور اپنی قوم کو مظلوم بتانا دنیا میں قومی مقبولیت کے لیے بہت مفید ہے۔ قوم پسند بولی بولنے والے لوگ بہت جلد اپنی قوم میں قیادت کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر آخرت کے اعتبار سے، یہ صرف ہلاکت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ قوم پسند بولی بولنے والے لوگ بہت جلد قوم کے اسٹیج پر ممتاز مقام حاصل کر لیتے ہیں، لیکن آخرت کے ربانی اسٹیج پر یقیناً اُن کو کوئی جگہ ملنے والی نہیں۔ قومی شکایت کا موقع آدمی کے لیے سب سے زیادہ امتحان کا موقع ہوتا ہے۔ ایسا ہر لمحہ آدمی کی جنت یا جہنم کا فیصلہ کرنے والا ثابت ہوتا ہے۔ قومی معاملے میں لکھتے اور بولتے وقت جو لوگ غیر منصفانہ رپورٹنگ کریں، وہ گویا کہ دنیا میں جھوٹ کی سیٹ پر کھڑے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو آخرت کی دنیا میں ہرگز سچائی کی سیٹ پر جگہ ملنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page