Al-Risala · June 2013 · page

سادہ فارمولا

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

سادہ فارمولا

موجودہ زمانے کے مسلمان مختلف قسم کے مسائل کا شکار ہیں ۔ مثلاً فقہی مسائل ، سیاسی مسائل ، اور بین اقوامی مسائل ، وغیرہ ۔ مسائل کے حل کا صحیح فارمولا وہ ہے جو حالات کی نسبت سے قابلِ عمل ہو ۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مذکورہ مسائل کا سادہ فارمولا یہاں حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:

فقہی مسائل میں توسع ، سیاسی مسائل میں شورائیت ، اور مشترک مسائل میں بین اقوامی رواج کو مان لینا ۔

فقہی (عبادتی) مسائل میں اختلاف کا اصل سبب یہ ہے کہ صحابہ کی روایتیں عبادات کے فارم کے معاملے میں مختلف ہیں۔ ایسی حالت میں اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ ان اختلافات کو توسع پر محمول کیا جائے۔ یہ مسلک حدیثِ رسول کے مطابق ہوگا، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے بارے میں فرمایا: بأيهم اقتديتم اهتديتم (کشف الخفاء، جلد 1، صفحہ 146) سیاسی مسائل میں شورائیت کا مطلب یہ ہے کہ سیاست میں کوئی شخص اپنا معیار چلانے کی کوشش نہ کرے۔ عوامی رائے کے مطابق، جو بات طے ہو، اس کو مان لیا جائے۔ مذہبی معاملات میں افراد کو آزادی دیتے ہوئے، سیاسی اقتدار کے معاملے کو جمہوری عمل (democratic process) کے حوالے کر دیا جائے۔

مشترک مسائل میں بین اقوامی رواج کو مان لینے کا مطلب یہ ہے کہ بین اقوامی معاملے میں اُس اصول کو اختیار کر لینا جس کو اِس وقت انٹرنیشنل نارم (international norm) کا درجہ حاصل ہو۔ مسائل کا حل ہمیشہ حقیقت پسندی میں ہوتا ہے، نہ کہ معیار پسندی میں۔ اجتماعی زندگی میں کوئی بھی شخص اپنے ذاتی معیار کو نہیں چلا سکتا، اس لیے اجتماعی زندگی میں ضروری ہوتا ہے کہ دوسروں کی رعایت کی جائے، دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ کرتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page