Al-Risala · June 2013 · page

عبرت یا عذاب

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

عبرت یا عذاب

جرمن فلسفی نیشے 1844 میں پیدا ہوا، اور صرف 56 سال کی عمر میں 1900 میں اس کا انتقال ہو گیا۔ وہ نہایت ذہین آدمی تھا۔ نیشے کی عمر کے آخری کئی سال نہایت کس مپرسی میں گزرے۔ وہ کئی مہلک بیماریوں کا شکار ہوا، یہاں تک کہ وہ اپاہج ہو گیا۔ اس کا علمی کام مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ آخر کار وہ ایک ناکام انسان کی حیثیت سے مر گیا:

“God is dead” is a widely quoted statement by German philosopher Friedrich Nietzsche. It first appears in his book The Gay Science, first published in 1882. On January 3, 1889, Nietzsche suffered a mental collapse. Nietzsche's mental illness was originally diagnosed as tertiary syphilis, in accordance with prevailing medical paradigm of the time. Some believe he suffered from manic-depressive illness with periodic psychosis, followed by dementia. In 1898 and 1899 Nietzsche suffered at least two strokes, which partially paralysed him and left him unable to speak or walk. After contracting pneumonia in mid-August 1900 he had another stroke during the night of August 24-25, and died about noon on August 25, 1900. نیشے کا معاملہ ”عذاب‘‘ کا معاملہ نہ تھا۔ عذاب کا تعلق تمام تر آخرت سے ہے۔ نیشے کا معاملہ در اصل عبرت کا معاملہ تھا۔ نیشے کے واقعے میں یہ سبق ہے کہ اس دنیا میں منفی سوچ کسی کے لیے مفید نہیں ہوتی۔ نیشے جس قسم کی سوچ (God is dead”) میں مبتلا ہوا، وہ پوری کائنات میں اجنبی ہے، وہ مکمل طور پر ایک خلاف واقعہ سوچ ہے۔ اس قسم کی خلاف واقعہ سوچ آدمی کو غیر معتدل بنا دیتی ہے۔ اس کو ذہنی سکون (peace of mind) حاصل نہیں ہوتا، وہ مسلسل طور پر ٹینشن کا شکار رہتا ہے، کوئی علاج یا کوئی بھی تدبیر اس کو صحت عطا نہیں کرتی۔ اسی قسم کا عبرت ناک انجام دوسرے کئی ذہین لوگوں کا ہوا ہے۔ اُن میں سے ایک تازہ مثال جینش۔ اوشو۔ (وفات: 1999) کی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page