موت کے بعد
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
موت کے بعد
انڈیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان تعلیم کے بعد لندن چلے گئے۔ اب وہ مستقل طور پر لندن میں مقیم ہیں، انھوں نے برٹش شہریت لے لی ہے۔ اپنے سوچ کے اعتبار سے وہ الٹراسیکولر (ultra-secular) ہیں۔ وہ اسلام یا کسی مذہب کو نہیں مانتے اور بالکل آزادانہ قسم کی زندگی گزارتے ہیں۔ اب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ ان کی صحت بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے۔ لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھ کر وہ سوچتے ہیں کہ میں بھی اسی طرح مرنے والا ہوں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ ایک صاحب کا بیان ہے کہ وہ لندن میں اُن سے ملے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے کہا کہ ۔ اگر معلوم ہوتا کہ کوئی ایسا شخص ہے جو یہ جانتا ہے کہ موت کے بعد کیا ہونے والا ہے تو میں اُس سے انتہائی عاجزانہ درخواست کرتا کہ وہ مجھے اس کے بارے میں بتائے: I would beg him to tell me what is after death. اسی قسم کا ایک واقعہ کرپچن مشنری بلی گراہم نے بیان کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایک بار میں ایک سفر میں تھا۔ مجھ کو امریکہ کے ایک بہت بڑے دولت مند آدمی کا میسج ملا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوراً یہاں آ کر مجھ سے ملو۔ جب میں وہاں گیا تو مذکورہ امریکی دولت مند نے کسی تمہید کے بغیر کہا کہ۔ تم دیکھتے ہو کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ زندگی کی تمام معنویت ختم ہو چکی ہے۔ میں بہت جلد ایک نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانے والا ہوں۔ کیا تم مجھ کو امید کی ایک کرن دے سکتے ہو: You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope? ایسے کسی سائل سے صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا، اس کو جاننے کا مستند ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ خدا کی کتاب قرآن ہے۔ کوئی انسان نہیں جانتا کہ موت کے بعد کیا ہونے والا ہے، لیکن خالق ضرور اس حقیقت کو جانتا ہے اور اس نے اپنی کتاب میں اس حقیقت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues