Al-Risala · August 2013 · page

خالص اللہ کے لیے عمل

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

خالص اللہ کے لیے عمل

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے بارے میں فرمایا: كل عمل بن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مأة ضعف - قال الله تعالى: إلا الصوم، فإنه لي وأنا أجزي به، يدع شهوته وطعامه من أجلي (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1151) یعنی انسان کے ہر عمل کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: مگر روزہ کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزے دار میرے لیے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔

اس حدیث رسول میں جس عظیم ثواب کا ذکر ہے، اس کا تعلق صرف روزے سے نہیں ہے، بلکہ توسیعی طورپر اُس کا تعلق ہر اُس عمل سے ہے جو للہ یا لأجل اللہ کیا گیا ہو، یعنی وہ عمل جو خالص اللہ کے لیے کیا جائے۔ یہ وہ عمل ہے جو اللہ سے بے پناہ تعلق کے تحت ظہور میں آتا ہے۔ ایک انسان جس کو اللہ کی اعلی معرفت حاصل ہوئی ہو، جس کے اندر اللہ سے حب شدید (2:165) پیدا ہو گیا ہو، جو اللہ سے خوف شدید کی نفسیات میں جیتا ہو، جس کے تعلق بالله نے اُس کا یہ حال کر دیا ہو کہ اللہ اس کا سول کنسرن (sole concern) بن گیا ہو، اللہ کی یاد جس کا سب سے بڑا سرمایہ بنا ہوا ہو، ایسا انسان اگر بظاہر ایک چھوٹا سا کام بھی خالصتاً اللہ کے لیے کرے تو داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے، وہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ سارے زمین و آسمان بھی اس کا تحمل نہ کر سکیں۔ ایسا ایک عمل اپنی داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے، کسی انسان کا عظیم ترین عمل ہوتا ہے۔ اس کی کیفیاتی قدر و قیمت (qualitative value) اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کسی بھی پیمانے سے اس کو ناپا یا تولا نہیں جا سکتا۔ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انسان کی پوری شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ ربانی عمل کی وہ قسم ہے جب کہ بندہ اپنے آپ کو آخری حد تک اللہ کے آگے ڈال دیتا ہے۔ اُس وقت اللہ بھی اپنے لا محدود انعام کو اپنے بندے کے لیے مقدر کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page