Al-Risala · August 2013 · page 17

غیر قرآنی ذہن

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳، صفحہ ۱۷

قرآن کی اس آیت میں حجابِ مستور سے مراد غیر ربانی مائنڈ سیٹ ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اپنے غیر ربانی مائنڈ سیٹ کو توڑنا پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ اپنے آپ کو کامل طور پر آبجیکٹیو مائنڈ (objective mind) بنانا پڑتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلی شرط سلبی ہے، نہ کہ ایجابی۔

ایجابی ذہن کا مطلب ہے، قرآن کو قرآن کے ذہن سے پڑھنا۔ سلبی ذہن کا مطلب ہے، اپنے غیر قرآنی ذہن کی تطہیر کرنا۔ قرآن کے صحیح مطالعے کے لیے جو ترتیب ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی پہلے اپنے غیر قرآنی ذہن کے خول سے باہر آئے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ وہ ایجابی ذہن کے تحت قرآن کو پڑھے اور اس کو سمجھ سکے۔ گویا کہ کلمہ توحید (لا إله إلا الله) کی طرح یہاں بھی یہ اصول ہے کہ پہلے نفی کا مرحلہ ہے اور اس کے بعد اثبات کا مرحلہ، یعنی پہلے اپنے ذہن کے حجاب کو ہٹانا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کے صحیح مفہوم تک پہنچ سکے۔ جس زمانے میں کمیونزم کا زور تھا، ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے قرآن کو پڑھا۔ وہ اشتراکی فکر سے متاثر تھے۔ وہ قرآن کو پڑھتے ہوئے اس آیت تک پہنچے: إِنَّ الأَرْضَ لله (7:128)۔ اس آیت کو پڑھ کر انھوں نے اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق، یہ سمجھ لیا کہ قرآن بھی اشتراکیت کی تعلیم دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ زمین اللہ کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اسٹیٹ کی ہے۔ اسٹیٹ کو یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کی زمین پر قبضہ کر کے اشتراکی اصول پر زراعت کا نظام بنائے۔ اسی طرح ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان جو جمہوری فکر سے متاثر تھے، انھوں نے جب قرآن میں یہ آیت پڑھی: وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38) تو انھوں نے خوش ہو کر کہا کہ دیکھو، قرآن میں بھی جمہوریت (ڈیموکریسی) کی تعلیم موجود ہے۔

ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَلْ لِّي صَرْحًا (28:38)۔ ان الفاظ کو پڑھ کر مذکورہ مسلمان نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سیرامک انڈسٹری (ceramic industries) کی تعلیم دے رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page