مجھ کو قرآن نہیں ملا
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
مجھ کو قرآن نہیں ملا
سری نگر (کشمیر) میں ہمارے کئی ساتھی ہیں۔ وہ سیاحوں کو مطالعے کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ دیتے ہیں۔ 7 اپریل 2013 کو وہ وہاں کے ٹولپ گارڈن (Tulip Garden) گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ سیاحوں کا ایک گروپ گیٹ سے اندر داخل ہورہا ہے۔ انھوں نے ان لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ یہ ترجمہ محدود تعداد میں تھا، اس لیے وہ گروپ کے بعض افراد کو نہیں ملا۔ اس کے بعد انھوں نے دیکھا کہ گارڈن کے گیٹ پر ایک نوجوان کھڑا ہورہا ہے۔ وہ رورہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا مجھ کو قرآن نہیں ملا۔
یہ واقعہ مجھ کو معلوم ہوا تو میں نے سوچا کہ یہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ یہ واقعہ حاملین قرآن کے لیے ایک عظیم انتباہ (warning) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ حاملین قرآن کو ان کی ذمے داری یاد دلارہا ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ حشر کے میدان میں تمام پیدا ہونے والے انسان اکٹھا ہوں گے۔ اُس وقت اگر ایسا ہو کہ جن لوگوں تک قرآن نہیں پہنچا، وہ کھڑے ہوکر اللہ سے فریاد کریں کہ جن لوگوں پر یہ ذمے داری ڈالی گئی تھی کہ وہ خدا کی کتاب (قرآن) کو تمام انسانوں تک پہنچائیں، انھوں نے اپنی یہ ذمے داری پوری نہیں کی۔ انھوں نے لوگوں کی قابل فہم زبان میں خدا کی کتاب کو اُن تک نہیں پہنچایا۔ ایسی حالت میں سب سے پہلے ان حاملین قرآن کی پکڑ ہونی چاہئے، نہ کہ ہماری۔ اگر حشر کے میدان میں یہ واقعہ پیش آئے کہ جن لوگوں تک قرآن نہیں پہنچا، وہ وہاں کھڑے ہوکر اللہ سے فریاد کریں تو حاملین قرآن کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں دونوں گروہوں سے یہ سوال کیا جائے گا کہ پہنچانے والوں نے پہنچایا، یا نہیں، اور یہ کہ جن کو پہنچایا جانا تھا، اُن کو ملا، یا نہیں (7:6)۔ قرآن کا مذکورہ بیان داعی اور مدعو دونوں کے لیے بے حد اہم ہے۔ دونوں کو یہ سوچنا ہے کہ حشر کے میدان میں وہ اس معاملے میں اللہ کے سامنے بری الذمہ قرار پائیں گے یا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues