Al-Risala · September 2013 · page

تسخیر کائنات

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

تسخیر کائنات

انسان کے لیے اللہ کی ایک نعمت وہ ہے جس کو تسخیر کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: اَللّٰهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ بِاَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۝ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ (45:12-13) یعنی اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے سمندر کو مسخر کر دیا، تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔

تسخیر کا مطلب ہے کسی چیز کو بزور قابل استعمال یا قابل انتفاع بنانا۔ اللہ جو پوری کائنات کا خالق ہے، اس نے کائنات کے ہر جز کو قوانین فطرت (laws of nature) کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان مخلوقات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے۔ خدائی قوانین کے ذریعے کائنات اگر اس طرح مسخر نہ ہوتی تو انسان کے لیے اس کو استعمال کرنا ناممکن ہو جاتا۔ اس کی ایک مثال سمندر کی ہے۔ سمندروں کی شکل میں پانی کے جو قدرتی ذخائر ہیں، وہ کرہ ارض کے تقریباً تہائی حصہ (% 71) پر پھیلے ہوئے ہیں۔ زمین ایک گول کرہ ہے جو مسلسل طور پر گردش کر رہا ہے۔ ایک زبردست قانون پانی کے ذخائر کو زمین پر قائم کئے ہوئے ہے۔

ایک طرف زمین کی غیر معمولی کشش زمین کے ذخائر کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے، اور دوسری طرف سمندر کے اوپر ہوا کا تقریباً پانچ میل موٹا غلاف ہے جو سمندر کے اوپر دباؤ بنائے ہوئے ہے۔ ان دو طرفہ اسباب کی بنا پر ایسا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں پانی مسلسل طور پر موجود ہے، ورنہ پورا ذخیرہ آب اڑ کر فضا میں تحلیل ہو جاتا۔

یہی معاملہ سمندر میں چلنے والی کشتیوں کا ہے۔ یہاں بھی خدا کا مقرر کیا ہوا ایک قانون فطرت

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page