اہل سنت والجماعت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
اسلام کا خطاب اصلاً فرد سے ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ : انما الأعمال بالنيات (صحیح البخاري، رقم الحديث : 1) یعنی عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ نیت (intention) ایک انفرادی چیز ہے۔ نیت کا تحقق ایک فرد کے اندر ہوتا ہے۔ ہر فرد کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو پوری دیانت (honesty) کے ساتھ اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کرے ۔ اس معاملے میں کسی فرد کے لیے مصالحت (compromise) کا طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں۔ ذاتی دین داری کے معاملے میں، کسی فرد سے، معیار سے کم تر کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔ لیکن اجتماعی زندگی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اجتماعی زندگی میں معیاری عمل ممکن نہیں۔ انفرادی زندگی میں اگر غیر مصالحانہ رویہ (uncompromising attitude) مطلوب ہے تو اجتماعی زندگی میں اس کے برعکس مصالحانہ رویہ (compromising attitude) ایک مطلوب چیز بن جاتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں مصالحانہ رویے کی حکمت یہ ہے کہ اگر اجتماعی معاملے میں غیر مصالحانہ رویہ اختیار کیا جائے تو اس سے عملاً خیر کے بجائے شر پیدا ہوگا، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : الخلاف شر (البيهقي، رقم الحديث : 5004) یعنی عملی معاملے میں اختلافی روش اختیار کرنا بہ اعتبار نتیجہ شر کا موجب ہوتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کوئی اعتقادی کلمہ نہیں، وہ زیادہ سے زیادہ ایک حکمت کی بات ہے۔ یہ اصطلاح بتاتی ہے کہ ایک شخص کو محفوظ طور پر دینی زندگی کس طرح گزارنا چاہئے۔ وہ محفوظ طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے معاملے میں آخری حد تک معیار پر قائم رہے، وہ سنتِ رسول کو اپنا ماڈل بنائے۔ لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کی بات ہے، اس میں وہ عملی (practical) بن جائے۔ وہ عملی تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اکثریت کے ساتھ شامل رہے۔ اسی بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ آدمی کو اپنے ذاتی معاملے میں آئیڈیلٹ (idealist) ہونا چاہئے اور اجتماعی معاملے میں پریگمیٹک (pragmatic) ۔ اہل سنت والجماعت کی اصطلاح کوئی اعتقادی اصطلاح نہیں، وہ قرآن وسنت کی کسی متعین تعلیم پر مبنی نہیں، وہ صرف عمومی تجربے پر مبنی ہے۔ اس کا تعلق نہ عقیدے سے ہے اور نہ نجات سے۔ وہ صرف ایک کنوینینٹ اصطلاح (convenient term) ہے جو بعد کے زمانے میں رائج ہوئی۔ (20 جولائی 2013)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues