Al-Risala · October 2013 · page

کتابِ مہجور

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

اپنے مذہب کو کبھی نہیں چھوڑا، لیکن مذکورہ معنوں میں ہر ایک نے اپنے مذہب کو چھوڑ رکھا ہے۔ یہواد ونصاریٰ کا دین اصلاً اللہ کی طرف سے آیا ہو دین تھا، جو اُن کو اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملا تھا۔ لیکن بعد کو اُن کے علما اپنی تشریح و تعبیر کے ذریعے اس میں تبدیلی اور اضافہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اُن کے یہاں ایک متوازی مذہب (parallel religion) تیار ہوگیا۔ اب یہود و نصاریٰ اسی متوازی مذہب پر ہیں، نہ کہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملے ہوئے اصل خدائی مذہب پر۔ حدیث میں امتِ مسلمہ کے بارے میں آیا ہے: لتتبعن سنن من كان قبلكم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى ولو دخلوا جحر ضب تبعتموہم (صحيح البخاري، رقم الحديث: 7320) یعنی تم ضرور پچھلی امتوں کے طریقوں کا اتباع کروگے۔ قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی وہاں داخل ہوجاؤ گے۔ حدیثِ رسول کی یہ پیشین گوئی آج پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔ آج مسلمان عملاً جس دین پر ہیں، وہ اصلاً قرآن اور سنت والا دین نہیں ہے۔ وہ ایک متوازی دین ہے جو اُن کے علما اور مشائخ نے بعد کے زمانے میں اسلام کے نام پر تیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اگر چہ بظاہر دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے، وہ دین کہیں نظر نہیں آتا جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں پایا جاتا تھا۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مقدس کتاب ہے، لیکن وہ اُن کے لیے رہنما کتاب نہیں ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم قومی فخر کا ذریعہ ہیں، لیکن وہ ان کے لیے اسوۂ حیات نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے قرآن کو ایک کتاب مہجور بنادیا ہے، لیکن یہ ہجران بہ اعتبار عمل (in terms of practice) ہے، نہ کہ بہ اعتبار عقیدہ (in terms of belief)۔ قرآن کو وہ بدستور ایک مقدس کتاب مانتے ہیں، لیکن ان کی عملی زندگی سے قرآن کا کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page