موجودہ مسلمانوں کی ناکامی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
بیان کیا گیا ہے: لنریہ من آیاتنا (17:1) یعنی تا کہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ So that We might show him some of Our signs. اس آیت میں جس نشانی کا ذکر ہے، اس سے مراد خود سفر ہے، نہ کہ یروشلم میں واقع کوئی چیز۔ اللہ تعالی نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعے جو کتاب ہدایت (قرآن) بھیجی، وہ اس لیے تھی تا کہ وہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے۔ یہ عالمی پیغام رسانی کیوں کر ممکن ہوگی، اس کے بارے میں اشاراتی طور پر بتایا گیا کہ عالم فطرت (nature) میں اللہ نے بالقوہ طور پر تیز رفتار ترسیل (rapid communication) کے امکانات رکھ دئے ہیں جن کو دریافت کرکے واقعہ بناؤ اور اُن کو تمام اہل عالم تک پیغام خداوندی (قرآن) کو پہنچانے کے لیے استعمال کرو۔ استبدال قوم کا اصول امت مسلمہ کو اللہ تعالی نے لمبی مدت تک یہ موقع دیا کہ وہ فطرت کے اس امکان کو واقعہ بنائے اور قرآن کے سلسلے میں اپنی عالمی ذمے داری کو پورا کرے، لیکن امت مسلمہ کے رہنما اور قائدین اس راز کو نہ سمجھ سکے۔ وہ دوسرے میدانوں میں سرگرم رہے، لیکن دعوت الی اللہ کے عالمی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جو عمل مطلوب تھا، اُس عمل کو انجام دینے میں وہ پوری طرح ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی کی وہ سنت ظاہر ہوئی جس کو قرآن میں استبدال قوم (47:38) کہا گیا ہے، یعنی ایک خدائی مطلوب کو انجام دینے میں اگر ایک گروہ نا کام ہو جائے تو اس کی جگہ دوسرے گروہ کو لے آنا۔ موجودہ زمانے میں جن مغربی قوموں نے دورِ مواصلات (age of communication) پیدا کیا ہے، وہ اسی استبدال قوم کی توسیعی صورت ہے۔ تائید بذریعہ سیکولر اقوام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیشین گوئیاں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں: ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحيح البخاري، رقم الحدیث (3062) یعنی اللہ یقیناً اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues