Al-Risala · November 2013 · page

موجودہ مسلمانوں کی ناکامی

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

دو پہلو تھے ایک، یہ کہ ان مغربی قوموں نے فطری طور پر اُس وقت کی مسلم دنیا میں سیاسی غلبہ حاصل کر لیا۔ اس واقعے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ یہ قومیں اُس عظیم نعمت کو لے کر آئی تھیں جو خود اسلام کا عین مطلوب تھا، جس کا ہزار سال سے تاریخ کو انتظار تھا، یعنی جدید مواصلات (modern communication)۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنمابر وقت اُس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے جو اُس وقت اُن سے مطلوب تھی، یعنی سیاسی مسئلے کو عملی طور پر نظر انداز کرنا اور کمیونیکیشن کے جدید ذرائع کو بھر پور طور پر دعوت کے لیے استعمال کرنا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل اِسی دانش مندی کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔

ایک عرب شیخ عبد الرحمن الحبنکہ نے اپنی ایک کتاب میں بتایا ہے کہ اس وقت امت مسلمہ کے تمام مسائل کا اصل سبب تین اثر د ہے ہیں۔ مصنف کے نز د یک ، یہ تین اثر د ہے یا یہ تین بڑے سانپ یہ ہیں استعمار (colonialism)، استشر اق (orientalism) مسیحی مبلغین (Christian missionaries)۔ یہ کسی ایک مصنف کی بات نہیں، یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں کی سوچ ہے۔ اسی غلط سوچ کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان پچھلے 200 سال کے ان مفروضہ ’’افاعی‘‘ سے لڑنے اور ان کو ختم کرنے میں مشغول ہیں، لیکن عملی نتیجہ مکمل طور پر بر عکس صورت میں ظاہر ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں ’’افاعی‘‘ اپنی حقیقت کے اعتبار سے افاعی نہ تھے، بلکہ مذکورہ حدیث رسول کے مطابق، وہ مؤیدینِ اسلام (supporters of Islam) کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں سے موجودہ زمانے میں وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید مواصلات کہا جاتا ہے۔ جدید مواصلات کو انھوں نے اپنے مقصد کے لیے ڈیولپ کیا تھا، لیکن جدید مواصلات، عالمی مواصلات ہیں، اُن پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ اگر مسلم علما اور رہنما صرف یہ کرتے کہ وہ ان مفروضہ افاعی کے خلاف ٹکراؤ کا محاذ نہ کھولتے اور پُرامن طریق کار اختیار کرتے تو بلا شبہ وہ جدید مواصلات کو کامل طور پر اپنے حق میں استعمال کر سکتے تھے اور اسلام کی عالمی دعوت کے اُس منصوبے کو پورا کر سکتے تھے،

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page