الحاد کا دور
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۷۸
انسانی تاریخ کو ایک نیا رخ یا الحادی رخ دیا۔ اُن کے نام یہ ہیں ۔ آئزاک نیوٹن، چارلس ڈارون، سگمنڈ فرائڈ، کارل مارکس :
1. Isaac Newton: from divine interpretation to mechanical interpretation 2. Charles Darwin: from Special Creation to Natural Selection. 3. Sigmund Freud: from harnessing desires to following desires. 4. Karl Marx: from duty-conscious society to right-conscious society. 1 - برٹش سائنس داں آئزاک نیوٹن (وفات: 1727) اصلًا صرف سائنس داں تھا۔ اس کا موضوع تھا مادی دنیا میں حرکت (motion) کی توجیہہ کرنا۔ اس نے دریافت کیا کہ مادی دنیا میں حرکت کا نظام میکانکل قوانین (mechanical laws) کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً شمسی نظام میں سیاروں کی گردش کا قانون۔ نیوٹن کی دریافت کا کوئی تعلق مذہبی عقائد سے نہ تھا، لیکن ملحد مفکرین نے اس دریافت کو الحاد کے حق میں استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر واقعات فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطری سبب کے تحت نہیں ہو سکتے :
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. یہ استدلال بلاشبہ ایک غیر منطقی استدلال تھا، کیوں کہ نیوٹن کی تشریح جس چیز کو بتا رہی تھی، وہ صرف ظاہری سبب تھا۔ اس کے بعد بھی یہ سوال تھا کہ اسباب کے پیچھے مسبب (cause of the causes) کون ہے۔ اس معاملے میں ملحدین کا استدلال تمام تر ایک مغالطے پر مبنی تھا، وہ کوئی سائنسی استدلال نہ تھا۔ لیکن ملحد مفکرین کی یہ توجیہہ وقت کے ذوق کے مطابق تھی، اس لیے وہ عمومی طور پر پھیل گئی۔ 2 - چارلس ڈارون (وفات : 1882) کا ارتقائی نظریہ بنیادی طور پر انتخابِ طبیعی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues