الحاد کا دور
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۸۰
4 کارل مارکس (وفات: 1883) نے زندگی کا جو فلسفہ دیا، وہ اپنی عملی تدبیر کے اعتبار سے یہ تھا کہ اقتصادی ذرائع کو انفرادی کنٹرول سے نکال کر سماجی کنٹرول میں دے دیا جائے۔ مارکس کے نزدیک انسانی حقوق کے تحفظ کا یہی واحد راستہ تھا۔ مگر عملی تجربے کے لحاظ سے اس فلسفے کا مطلب یہ تھا کہ تمام اقتصادی ذرائع کو اسٹیٹ کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔ اس نظریے کا مقصد بظاہر ایک غیر طبقاتی سماج (classless society) پیدا کرنا تھا، مگر عملاً اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو شدید قسم کے محارب طبقے پیدا ہو گئے۔
اس نظریے سے دو بڑی برائیاں پیدا ہوئیں — ایک، یہ کہ مسابقَت (competition) کا ختم ہو جانا، جو کہ تمام ترقیوں کے لیے فطری محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری برائی جو اشتراکی نظریے کے تحت پیدا ہوئی، وہ یہ کہ لوگ عمومی طور پر رائٹ کانشس (right-conscious) بن گئے، جب کہ کسی سوسائٹی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ڈیوٹی کانشس (duty-conscious) ہوں۔ یہاں پہنچ کر طبقاتی کشمکش نے ایک ایسی صورت اختیار کرلی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ کیوں کہ زندگی میں ڈیوٹی کا تعین ہوسکتا ہے، لیکن رائٹ کا کوئی تعین نہیں۔
خلاصہ کلام
قدیم دور شرک کا بگاڑ یہ تھا کہ وہ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے میں مانع بن گیا۔ انسان کو یہ کرنا تھا کہ وہ اپنی سوچ کو اور محبت اور خوف کے جذبات کو مکمل طور پر خدا سے وابستہ کرے۔ اسی کا نام توحید ہے اور اسی توحید سے انسان کے اندر تمام اعلی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن مشرکانہ کلچر نے خدا کے شرکا (partners) قرار دے کر انسان کو اس کے مرکز اصلی سے ہٹا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسان اپنے مطلوب ارتقا سے محروم ہو کر رہ گیا۔
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک مرکز وابستگی چاہتا ہے۔ انسان کی اس فطری طلب کا مرجع صرف ایک ہے، اور وہ اس کا خالق ہے۔ بندے کا خالق سے تعلق قائم ہونا ایسا ہی ہے جیسے بجلی کے بلب کا پاور ہاؤس سے تعلق قائم ہونا۔ شرک کی برائی یہ تھی کہ اس نے انسان کی اس طلب کے لیے اس کو ایک غیر واقعی بدل
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues