Al-Risala · April 2014 · page 16

کلام جاہلیت اور فہم قرآن

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۱۶

ذاتی مفروضات کے ذریعے ۔ قرآن جس طرح اسلام کی تعلیمات کو جاننے کا ذریعہ ہے، اُسی طرح وہ اس بات کو جاننے کا ذریعہ بھی ہے کہ قرآن کے لیے بنیادی طور پر کن چیزوں کی اہمیت ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ وہ عربی مبین (195:26) کی زبان میں اترا، دوسری طرف قرآن میں اس کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (49:29) ۔ قرآن کے ان بیانات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن فہمی کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ لسان عرب اور لسان فطرت ۔ قرآن کے طالب علم کو ایک طرف یہ کرنا ہے کہ وہ اُس عربی مبین سے واقف ہو جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں عربوں کے درمیان بولی اور سمجھی جاتی تھی، خاص طور پر قبیلہ قریش کی زبان ۔ قرآن کسی لسان ماضی میں نہیں اترا، بلکہ وہ لسان حال میں اترا، اور یہ لسان حال عملاً وہی تھی جو خاص طور پر قریش کے درمیان رائج تھی ۔ یہ عربی مبین قرآن وحدیث میں ممارست کی بنا پر اہلِ حجاز کے درمیان اب بھی عملاً موجود ہے۔

اس سلسلے میں دوسری چیز انسان کی وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے اُس کو پیدا کیا ہے (30:30)۔ قرآن اپنے الفاظ کے اعتبار سے عربی زبان میں ہے، لیکن اپنے خطاب کے اعتبار سے، وہ انسان کی فطرت کو ایڈریس کرتا ہے۔ اس لیے قرآن فہمی کے لیے دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ قرآن کے طالب علم کے اندر فطرت شناسی کا مادہ موجود ہو۔ اس کے اندر یہ صلاحیت پائی جاتی ہو کہ وہ انسان کی فطرت، بہ الفاظ دیگر نفسیات انسانی کو گہرائی کے ساتھ جانتا ہو ۔ قرآن فہمی کے لیے یہ دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ قرآن کو اس کے گہرے معانی کے ساتھ سمجھنے کے لیے نہ تنہا عربی زبان کافی ہوسکتی ہے اور نہ تنہا فطرت انسانی سے واقفیت ۔ عربی زبان سے واقفیت آدمی کے اندر متن شناسی کی صلاحیت پیدا کرتی ہے اور فطرت انسانی سے واقفیت آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتی ہے کہ وہ قرآن کے معانی تک رسائی حاصل کر سکے۔ فطرت انسانی سے واقفیت کے بغیر لسانی مہارت صرف ایک فنی مہارت ہے اور محض فنی مہارت قرآن فہمی کے لیے ہرگز کافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page