فکری بنیاد کی اہمیت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۲۵
اظہارِ دین
اللہ کا ایک خصوصی منصوبہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ اللہ کا ایک خصوصی منصوبہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان لیا لیا ہے: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۖ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (48:28) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اُس کو تمام ادیان پر غالب کردے اور اللہ کافی گواہ ہے۔ یہ آیت قرآن کی تین سورتوں میں آئی ہے۔ ایک سورہ میں مزید یہ الفاظ آئے ہیں: وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (9:32) - قرآن کی اس آیت میں ’ہدیٰ‘ سے مراد آءِڈیالوجی (ideology (divine ہے اور دین، سے مراد اس آئیڈیالوجی پر مبنی طریقہ زندگی(way of life) ہے۔ اللہ نے ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعے ہدایت اور دین بھیجا، لیکن اس کے بعد انسان اُس میں تبدیلی کرتا رہا، یہاں تک کہ دینِ خداوندی کا اصل وزن (original version) باقی نہیں رہا، بلکہ دینِ خداوندی کے نام پر ایک خود ساختہ انسانی وزن وجود میں آگیا۔ اس کے بعد اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ابدی طور پر دینِ خداوندی کا صحیح وزن وجود میں آئے اور اس کو تاریخ میں پوری طرح محفوظ کر دیا جائے۔
تمام ادیان پر اظہارِ دین کا مطلب کسی قسم کا سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینِ خداوندی کی تصویر بے آمیز صورت میں انسان کے سامنے آجائے۔ اسی طرح اتمامِ نور کا مطلب بھی کسی سیاسی نظام کا نفاذ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدائی دین کی تصویر کو بگاڑنا چاہتا ہے، مگر اللہ کا یہ حتمی فیصلہ ہے کہ وہ خدائی دین کو اس کی اصل صورت میں محفوظ کر دے۔ اللہ نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی ہے۔ اللہ نے اپنی سنت کے مطابق، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے ہِ حفاظت دین کے اس منصوبے کو انجام دیا۔
فکری بنیاد کی اہمیت
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہاتھی کے واقعہ کے تقریباً بعید اول ملی رہا ہوا اُن کو موقع
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues