جنتی تہذیب
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۴۱
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات نا قابلِ قیاس حد تک زیادہ ہیں، اتنے زیادہ کہ اگر اُن کو لکھا جائے تو وہ ضبط تحریر میں نہ آسکیں ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (31:27) یعنی اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ بے شک اللہ زبر دست ہے، حکمت والا ہے۔
’کلماتِ اللہ‘ کا لفظی مطلب ہے اللہ کی باتیں (words of God)۔ اللہ کا کلمہ سادہ طور پر صرف کلمہ نہیں ہوتا، وہ ایک محکم فیصلہ یا اٹل قانون ہوتا ہے۔ کلماتِ اللہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مختلف مقامات پر ’امر رَب‘ یا ’امر اللہ‘ کہا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اس کو قوانین الٰہیہ (divine laws) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہل سائنس اس واقعے کو قوانینِ فطرت (laws of nature) کہتے ہیں۔
یہی قوانین الٰہیہ یا قوانینِ فطرت ہیں جن کی بنیاد پر کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہی قوانین ہیں جن کے تحت نہایت محکم انداز میں کائنات کا پورا نظام مسلسل طور پر چل رہا ہے۔ یہی قوانین انسان کے لیے اس کی تمام فکری اور عملی ترقیوں کا ماخذ ہیں۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان معرفت حاصل کرتا ہے۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان تخلیق کی معنویت کو دریافت کرتا ہے۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان اللہ کی عظمت (glory) سے آشنا ہوتا ہے۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان کے اندر وہ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو اللہ کے لیے حب شدید اور خوف شدید کہا جاتا ہے۔ انھیں قوانین پر تدبر کر کے آدمی اپنے اندر وہ ربانی شخصیت پیدا کرتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ یہ قوانین الہیہ اتنی زیادہ تعداد میں ہیں کہ انسان ابد تک اُن میں تدبر کرتا رہے اور وہ کبھی ختم نہ ہوں۔ یہی قوانین یا قوانینِ فطرت ہی تمام علوم کا خزانہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں جس ظاہرے کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے، وہ انھیں قوانین الہیہ یا قوانینِ فطرت کی جزئی دریافت کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues