جنت کے باغوں میں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
جنت کے باغوں میں
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں اس طرح آئی ہے: عن أنس قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إذا مررتم بریاض الجنّة فارتعوا_ قالوا: و ما رياض الجنة_ قال: حلق الذكر (سنن الترمذي رقم الحديث (3431) یعنی حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو چرنے کی کوشش کرو۔ سوال کیا گیا کہ جنت کے باغات کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ذکر کے حلقے۔
اس حدیث میں ’حلق الذکر‘ کا لفظ علامتی معنی (symbolic sense) میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جگہ تمھارے لیے جنتی تجربے کے مواقع موجود ہیں۔ ان مواقع کو پہچانو اور اُن کو استعمال کرو۔ اس طرح دنیا میں تمھاری پوری زندگی جنت کا تجربہ بن جائے گی: Make your living in this world like living in Paradise. قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کو جنت کے متشابہ (similar) بنایا گیا ہے (2:25)، یعنی موجودہ دنیا میں وہ تمام اجزا محدود طور پر موجود ہیں جو جنت میں لامحدود طور پر موجود ہوں گے۔ موجودہ دنیا جنت کا امپر فیکٹ ورژن (imperfect version) ہے، اور جنت موجودہ دنیا کا پرفیکٹ ورژن (perfect version)۔ جس انسان کو موجودہ دنیا کی اس متشابہ جنت حیثیت کی دریافت ہو جائے، وہ موجودہ دنیا میں جنت کا تجربہ کرنے لگے گا۔ اُس انسان کے لیے موجودہ دنیا گویا کہ جنت کی چراگاہ بن جائے گی، اُس کو موجودہ دنیا کے ہر تجربے میں جنت کی غذا ملنے لگے گی۔ یہ سارا معاملہ ایمانی شعور کی بیداری کا معاملہ ہے۔ جس آدمی کے اندر ایمانی شعور پوری طرح بیدار ہو جائے، اُس کا یہ حال ہو جائے گا جیسے کہ وہ جنت کے باغوں میں واک (walk) کر رہا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے موت کا مطلب یہ ہوگا جیسے کہ کوئی شخص اپنے گھر کے ایک کمرے سے نکل کر اس کے دوسرے کمرے میں داخل ہوجائے۔