Al-Risala · May 2014 · page 9

نیا ہندی ترجمہ قرآن

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴، صفحہ ۹

طر زان اضلات طر زان اضلات ۳ لِلْمُتَّقِينَ )۴() ہِلالِ خَالدِ اس کے الفاظ یہ ہیں: إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه فصبر، عوضته منهما الجنة (صحيح البخاري، رقم الحديث: 5653) یعنی جب میں اپنے ایک بندے کو ابتلا میں ڈالتا ہوں اور اس کی دونوں آنکھیں لے لیتا ہوں، پھر وہ صبر کرتا ہے، تو اس صبر کے بدلے میں اس کو جنت دے دیتا ہوں۔ اس روایت میں ابتلا کا لفظ آیا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب تجربہ (experience) ہے، یعنی جب کسی بندے کو بینائی سے محرومی کا تجربہ ہوتا ہے، پھر وہ مایوسی کے بجائے صبر کر لیتا ہے۔

صبر کا مطلب برداشت ہے، لیکن یہاں صبر کا مطلب یہ ہے کہ وہ بینائی سے محرومی کے اس تجربے کو مثبت معنی (positive sense) میں لیتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ اس کے اندر چھپے ہوئے امکانات انفولڈ (unfold) ہونے لگتے ہیں۔

اس قسم کا مثبت تجربہ اُس انسان کو پیش آتا ہے جس کا شعور بیدار ہو۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار آنے لگتی ہیں۔ معذوری کے باوجود وہ بڑے بڑے کام انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے افراد کی مثالیں قدیم ۔ ، ، تاریخ میں بھی موجود ہیں اور جدید تاریخ میں بھی۔

نیا ہندی ترجمہ قرآن

ہندی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دو ترجمے شائع ہو چکے ہیں ۔ ایک ، قرآن کا آسان ہندی ترجمہ ۔ دوسرا ، قرآن کا خالص ہندی ترجمہ ۔ یہ نیا ترجمہ قرآن خاص طور پر غیر مسلم حضرات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

पवित्र कुरआन

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page