Al-Risala · June 2014 · page 16

توبہ نصوح

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۱۶

ہے۔ اُس وقت اس کو شدید طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمر ضائع کردی۔ اس کو اپنا مستقبل بالکل تاریک دکھائی دینے لگتا ہے۔ کسی انسان پر اگر یہ زلزلہ خیز حالت طاری ہو جائے تو ایک لمحے کے اندر اس کو توبہ نصوح کی توفیق حاصل ہو جائے گی۔ اس کے گناہ اس کے اعمال نامے سے اچانک ڈیلیٹ (delete) ہو جائیں گے۔

یہی وہ حالت ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: التائب من الذنب كمن لا ذنب له (الجامع الصغير للسيوطي، رقم الحديث: 3387) یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے کہ اس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مومن حقیقی تو بہ کرے تو اللہ تعالی عین اُسی وقت اس کے گناہوں کو اس کے اعمال نامے سے حذف کردے گا۔ ایک گناہ گار شخصیت اچانک ایک بے خطا شخصیت کی صورت اختیار کر لے گی۔

تو بہ کا معاملہ سادہ معنوں میں صرف خطا اور عفو خطا کا معاملہ نہیں ہے، اس کی اہمیت اس سے زیادہ ہے۔ تو بہ ایک نفسیاتی عمل (psychological process) ہے، جس کے ذریعے ایک انسان کو موقع ملتا ہے کہ وہ مسلسل اپنی شخصیت کی تعمیر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ پورے معنوں میں مزکی شخصیت (purified personality) بن جائے۔

انسان کو سب سے زیادہ جو چیز جھنجھوڑتی ہے، وہ خطا کاری کا احساس ہے، نہ کہ معصومیت کا احساس۔ معصومیت کے احساس سے آدمی کے اندر ٹھہراؤ آتا ہے، جب کہ خطاری کا احساس آدمی کے اندر ایک ذہنی بھونچال پیدا کر دیتا ہے۔ یہی وہ بھونچال ہے جو آدمی کے اندر چھپے ہوئے پونشیل (potential) کو جگاتا ہے۔ وہ شدت کے ساتھ آدمی کے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کو ایسا انسان پسند ہے جو غلطی کرے اور معافی مانگے (خير الخطائين التوابون)۔ کسی شخص کے اندر اس نفسیاتی اصلاح کے جاری ہونے ہی کا شرعی نام تو بہ نصوح ہے۔ تو بہ نصوح اپنی حقیقت کے اعتبار سے محض کچھ الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک نفسیاتی بھونچال کا نام ہے۔ ایک ایسا نفسیاتی بھونچال کہ جب وہ کسی انسان کے اندر آتا ہے تو اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page