Al-Risala · July 2014 · page 2

خوش آمدید، خوش آمدید

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۲

خوش آمدید، خوش آمدید

مولاناسید سلیمان ندوی (وفات: 1953) نے اپنا ایک واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”1920ء کی تحریکِ خلافت کے سلسلے میں میرا یورپ جانا ہوا۔ وہاں میں ایک بار انگلستان سے فرانس گیا۔ اُس وقت میں اسی مشرقی لباس میں تھا۔ اگر چہ میں انگریزی زبان جانتا اور سمجھتا تھا، لیکن فرنچ زبان سے واقفیت نہیں تھی۔ فرانس کے ساحل پر اترتے ہی ایک کانسٹیبل نے فرنچ زبان میں کچھ کہا۔ میں سمجھا کہ اس نے میرے مشرقی لباس پر کچھ طنز کیا ہوگا۔ چناں چہ میں نے اس کا وہ فرنچ جملہ یاد رکھا اور ہوٹل پہنچ کر اپنے ایک فرنچ رفیق سے اُس جملے کا ترجمہ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اُس کانسٹیبل نے مجھے اجنبی دیکھ کر خوش آمدید کہا اور کہا کہ دیکھو، ہمارا ملک کتنا اچھا ہے۔ میرے دل پر اس کا بڑا اثر ہوا اور یہ احساس ہوا کہ یہاں کے معمولی درجے کے لوگوں میں بھی اپنے ملک کی عزت اور مسافروں کو خوش آمدید کہنے کا کتنا جذبہ پایا جاتا ہے‘‘۔ (مجلہ الشارق، اعظم گڑھ، مارچ۔ اپریل 2014) فرانس کے ساحل پر خوش آمدید کا یہ واقعہ پڑھ کر مجھے خوش آمدید کا دوسرا واقعہ یاد آیا جو اللہ کے مخلص بندوں کے ساتھ آخرت میں پیش آئے گا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ (39:73) یعنی جو لوگ اپنے رب سے ڈرے، وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دئے جائیں گے اور اس کے محافظ ان سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر، شادر ہو، پس جنت میں داخل ہو جاؤ، ہمیشہ کے لیے۔

مومن ایک حساس انسان کا نام ہے۔ مومن کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کے اندر یہ مزاج پیدا کرتی ہے کہ ہر تجربہ میں اس کو آخرت کی تصویر دکھائی دے۔ سچا مومن وہ ہے جس کا حال یہ ہو جائے کہ دنیا کا ہر برا تجربہ اس کو جہنم کی یاد دلائے اور دنیا کا ہر اچھا تجربہ اس کو جنت کی یاد دلانے والا بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page