مسلمان کی اصل حیثیت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۲۵
مسلمان داعی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے، مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسری قوموں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلائیں۔ داعیانہ شریعت میں، شکایت اور احتجاج کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کیوں کہ مسلمان جس قوم کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلائیں گے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مدعو قوم ہوگی۔
مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مدعو قوم کے ساتھ حریف قوم جیسا معاملہ کریں۔ مسلمانوں کو ہر حال میں اور ہر قوم کے ساتھ ہمیشہ معتدل تعلق کو برقرار رکھنا ہے۔ کیوں کہ معتدل تعلقات کے ماحول ہی میں دعوت الی اللہ کا کام ہو سکتا ہے۔ جہاں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان معتدل تعلقات نہ ہوں، وہاں دعوت کا کام انجام دینا ممکن ہی نہیں۔
قرآن کی سورہ الاحزاب میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: دع أذاهم وتوكل على الله (33:48) یعنی اُن کی ایذاؤں کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے نہ مانگ کر اللہ سے مانگو، مطالباتی طریقہ چھوڑ کر دعا کا طریقہ اختیار کرو۔ اسی لیے ہر پیغمبر نے اپنی مدعو قوم سے کہا کہ: لا أسئلکم عليه مالا (11:11) یعنی میں تم سے کسی مادی فائدے کا طالب نہیں ہوں۔ میں صرف دینے والا ہوں، نہ کہ تم سے کوئی چیز لینے والا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مدعو قوم کے مقابلے میں، حقوق (rights) کے نام پر مطالباتی مہم چلانا، پیغمبرانہ سنت کے مطابق، سرے سے جائزہی نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی۔ مگر جو چیز ختم ہوئی، وہ نبوت ہے، نہ کہ کار نبوت۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اب کوئی نیا پیغمبر آنے والا نہیں۔ لیکن جہاں تک پیغمبر کے دعوتی مشن کی بات ہے، وہ ہمیشہ اور ہر قوم کے درمیان جاری رہے گا۔ پیغمبر کے دعوتی مشن میں، بقدر استطاعت، اپنا حصہ ادا کرے ۔ یہ دعوتی عمل ہر فرد مسلم کے لیے فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ جولوگ اس فرض کو ادا نہ کریں، اُن کے لیے سخت اندیشہ ہے کہ خدا کے نزدیک ، وہ پیغمبر کے امتی ہونے کا حق اپنے لیے کھودیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues